
رپورٹ کے مطابق ٹرمپ کی خواہش تھی کہ مودی انہیں نوبیل انعام کیلئے نامزد کریں، تاہم بھارتی وزیراعظم نے یہ تجویز مسترد کر دی جس کے نتیجے میں دونوں رہنماؤں کے تعلقات میں کڑواہٹ گھل گئی۔
اخبار نے لکھا کہ یہ رپورٹ واشنگٹن اور نئی دہلی میں درجنوں اہم شخصیات کے انٹرویوز کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے۔
17 جون کو ایک ٹیلی فونک گفتگو کے دوران صدر ٹرمپ نے مودی کو یاد دلایا کہ پاک بھارت فوجی کشیدگی ختم کرانے پر انہیں فخر ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان انہیں نوبیل انعام کیلئے نامزد کرنے والا ہے اور چاہتا ہوں کہ مودی بھی اس عمل میں ان کا ساتھ دیں۔
تاہم مودی نے اس مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ جنگ بندی امریکا کی مداخلت کے بغیر براہ راست بھارت اور پاکستان کے درمیان طے پائی تھی۔ اس مؤقف اور نوبیل انعام کیلئے ٹرمپ کو نامزد کرنے سے انکار نے دونوں رہنماؤں کے درمیان تعلقات کو مزید پیچیدہ بنا دیا۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ اس تنازعے نے نہ صرف ٹرمپ۔مودی تعلقات کو متاثر کیا بلکہ امریکا اور بھارت کے درمیان تجارتی مذاکرات پر بھی اثر ڈالا۔
یہ بھی پڑھیں:اسرائیلی فضائی حملے میں حوثی وزیراعظم اور متعدد وزراء جانبحق
تجزیہ کاروں کے مطابق یہی وجہ ہے کہ بھارت اب امریکا کے بجائے بیجنگ اور ماسکو کے ساتھ زیادہ قریبی تعلقات استوار کرنے کی طرف مائل دکھائی دیتا ہے۔
واضح رہے کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اس وقت چین کے دورے پر ہیں جہاں ان کی ملاقات چینی صدر شی جن پنگ اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے متوقع ہے۔
ٹرمپ اور مودی کے درمیان نوبیل انعام کے معاملے پر اختلاف نے نہ صرف ذاتی تعلقات کو نقصان پہنچایا بلکہ عالمی سطح پر طاقت کے توازن پر بھی اثر ڈالنے کے امکانات پیدا کر دیے ہیں۔



