اب موبائل صرف تین منٹ میں چارج ہوگا
آسٹریلیا کی فلینڈرز یونیورسٹی کے محققین نے زنک آئیوڈین ٹیکنالوجی پر مبنی ایک نئی قسم کی بیٹری تیار کی ہے، اس بیٹری کو تقریباً 60 ہزار مرتبہ مکمل طور پر چارج کیا جاسکتا ہے، جو موجودہ اسمارٹ فون بیٹریوں کے مقابلے میں ایک غیر معمولی پیش رفت ہے۔
اگر کسی بیٹری کو 60 ہزار مرتبہ مکمل چارج کیا جاسکے تو نظریاتی طور پر اس کی عمر تقریباً 164 سال تک بنتی ہے، جبکہ عام اسمارٹ فونز میں استعمال ہونے والی بیٹریاں عموماً چند سال کے اندر اپنی کارکردگی کھونا شروع کردیتی ہیں۔
محققین کے مطابق نئی بیٹری میں زنک اور آئیوڈین کا استعمال کیا گیا ہے، جس کے باعث یہ موجودہ لیتھیم آئن بیٹریوں سے مختلف ہے۔ اس ٹیکنالوجی کا ایک اہم فائدہ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ نئی بیٹری میں آگ لگنے کا خطرہ کم ہوگا۔
واضح رہے کہ اس وقت زیادہ تر اسمارٹ فونز میں لیتھیم آئن بیٹریاں استعمال کی جاتی ہیں، ان بیٹریوں میں لیتھیم کوبالٹ آکسائیڈ اور گریفائٹ کی تہیں شامل ہوتی ہیں۔ فون کے استعمال اور چارجنگ کے دوران لیتھیم آئنز ایک تہہ سے دوسری تہہ کی جانب حرکت کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں برقی توانائی پیدا ہوتی ہے۔
چارجنگ اور زیادہ استعمال کے دوران بیٹری میں حرارت بھی پیدا ہوتی ہے، مسلسل زیادہ درجہ حرارت بیٹری کی کارکردگی کو متاثر کرسکتا ہے اور وقت کے ساتھ اس کی صلاحیت میں کمی آنا شروع ہوجاتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:یوٹیوب سے کمائی کے خواہشمند ہوشیار، مونیٹائزیشن کی نئی شرائط سامنے آگئیں
فلینڈرز یونیورسٹی کے ماہرین کے مطابق نئی زنک آئیوڈین بیٹری اگرچہ مستقبل میں اسمارٹ فونز سمیت مختلف برقی آلات کے لیے اہم ثابت ہوسکتی ہے، تاہم اسے ابھی مزید تحقیق اور بہتری کے مراحل سے گزرنا ہوگا۔
محققین کا کہنا ہے کہ ٹیکنالوجی کو مزید بہتر بنانے کے بعد ایسی بیٹریاں تیز چارجنگ، طویل عمر اور بہتر تحفظ کے حوالے سے صارفین کے لیے اہم تبدیلی لاسکتی ہیں۔