ورلڈ کپ جیتنے کے باوجود اصل ٹرافی کیوں نہیں ملتی؟ حیران کن وجہ جانیے
بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ جشن کے دوران اٹھائی جانے والی اصل فیفا ورلڈ کپ ٹرافی فاتح ٹیم کے پاس ہمیشہ کیلئے نہیں رہتی، بلکہ اسے تقریب ختم ہوتے ہی واپس فیفا کے حوالے کر دیا جاتا ہے۔
فیفا ورلڈ کپ ٹرافی اپنی خوبصورتی اور منفرد ڈیزائن کی وجہ سے دنیا کی سب سے مشہور کھیلوں کی ٹرافیوں میں شمار ہوتی ہے۔ عام تاثر یہ ہے کہ یہ مکمل طور پر سونے سے بنی ہوئی ہے، لیکن حقیقت اس سے مختلف ہے۔ یہ ٹرافی 18 قیراط سونے سے تیار کی گئی ہے، اس کی اونچائی 36.5 سینٹی میٹر جبکہ وزن 6.175 کلوگرام ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر یہ مکمل ٹھوس سونے کی بنی ہوتی تو اس کا وزن تقریباً 70 سے 80 کلوگرام تک پہنچ جاتا، جسے کسی بھی کھلاڑی کیلئے آسانی سے اٹھانا ممکن نہ ہوتا۔
ٹرافی کے نچلے حصے میں میلاکائٹ نامی قیمتی پتھر نصب کیا گیا ہے، جو اسے مزید دلکش بناتا ہے۔ اس شاہکار کو اطالوی مجسمہ ساز سلویو گزانِیگا نے ڈیزائن کیا تھا، جن کا ڈیزائن دنیا بھر سے موصول ہونے والی 52 تجاویز میں منتخب کیا گیا تھا۔
دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ ورلڈ کپ جیتنے والی ٹیم اصل ٹرافی اپنے پاس نہیں رکھ سکتی، فیفا کے قوانین کے مطابق ایوارڈ تقریب کے فوراً بعد اصل ٹرافی کو سخت سیکیورٹی کے ساتھ زیورخ میں واقع فیفا فٹبال میوزیم منتقل کر دیا جاتا ہے، جہاں اسے محفوظ رکھا جاتا ہے۔ صرف سابق عالمی چیمپئن ٹیموں کے کھلاڑیوں اور چند سربراہانِ مملکت کو ہی اصل ٹرافی کو چھونے کی اجازت ہوتی ہے۔
فاتح ٹیم کو مستقل طور پر سونے کی پرت چڑھی ہوئی کانسی کی نقل بطور یادگار دی جاتی ہے، جو ظاہری طور پر اصل ٹرافی جیسی دکھائی دیتی ہے لیکن اس کی تاریخی اور مادی حیثیت مختلف ہوتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ارجنٹائن کی عبرتناک شکست پر میسی رو پڑے، ویڈیو وائرل
اگر صرف ٹرافی میں استعمال ہونے والے سونے کی قیمت دیکھی جائے تو اس کی مالیت تقریباً 250 ہزار سے 400 ہزار امریکی ڈالر بنتی ہے، تاہم اس کی تاریخی اہمیت، عالمی شناخت اور منفرد حیثیت کو مدنظر رکھتے ہوئے اس کی مجموعی قدر 20 ملین امریکی ڈالر کے قریب سمجھی جاتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ فیفا اس قیمتی ٹرافی کو ہمیشہ اپنی تحویل میں رکھتا ہے تاکہ یہ کھیل کی تاریخ اور عالمی ورثے کے طور پر محفوظ رہ سکے۔