بنگلہ دیشی کرکٹر نعیم حسن پر مبینہ پولیس تشدد
کرکٹ ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق چٹوگرام میں پولیس اہلکاروں نے نعیم حسن کو مبینہ طور پر روکا اور ان کے ساتھ ناروا سلوک کیا۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ بعد ازاں انہیں پولیس اسٹیشن لے جایا گیا جہاں اہلکاروں نے ان پر تشدد کیا۔
نعیم حسن نے الزام عائد کیا ہے کہ پولیس نے انہیں بغیر کسی واضح وجہ کے روکا اور ان کے ساتھ جارحانہ رویہ اختیار کیا۔ ان کے مطابق پولیس اسٹیشن میں چھڑی اور پلاسٹک پائپ کے ذریعے انہیں تشدد کا نشانہ بنایا گیا، جبکہ اپنی شناخت ظاہر کرنے کے باوجود اہلکاروں نے رویہ نہیں بدلا۔
واقعے کے بعد نعیم حسن نے اس معاملے کی مکمل اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے تاکہ حقائق سامنے آ سکیں۔ ان کے مطابق اس نوعیت کا رویہ کسی بھی شہری یا کھلاڑی کے ساتھ ناقابل قبول ہے۔
دوسری جانب بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ اور کرکٹرز ویلفیئرز ایسوسی ایشن نے بھی واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ کھلاڑیوں کے تحفظ کو یقینی بنانا ضروری ہے۔
یہ بھی پڑھیں:سرکاری ملازمین اور پنشنرز کیلئے بڑی خوشخبری
ذہن نشین رہے کہ نعیم حسن نے بنگلہ دیش کی جانب سے اب تک 14 ٹیسٹ میچز میں نمائندگی کی ہے اور وہ ٹیم کا اہم حصہ رہے ہیں۔ اس واقعے کے بعد کرکٹ حلقوں میں ان کی حمایت میں آوازیں بلند ہو رہی ہیں جبکہ سوشل میڈیا پر بھی شدید ردعمل سامنے آ رہا ہے۔