ایک حالیہ انٹرویو میں محمد یوسف نے بتایا کہ ان کا استعفا ابتدائی طور پر قبول نہیں کیا گیا، تاہم تیسری بار پیش کیے جانے کے بعد اسے منظور کر لیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ جب بابر اعظم مسلسل رنز بنانے میں ناکام ہو رہے تھے تو بطور کوچ انہوں نے تکنیکی خامیوں کی نشاندہی کی اور تجویز دی کہ انہیں کچھ عرصے کیلئے آرام دے کر اکیڈمی میں ان کی تکنیک پر کام کیا جائے۔
محمد یوسف کا کہنا ہے کہ میری اس رائے کو مثبت انداز میں لینے کے بجائے مخالفت کی گئی، میں نے ٹیم کے مفاد میں بات کی، لیکن سب میرے خلاف ہو گئے، آخرکار میں نے کہا کہ اگر میری بات نہیں مانی جا رہی تو میں استعفا دے دیتا ہوں۔
واضح رہے کہ سابق کپتان نے ملکی کرکٹ میں سیاسی مداخلت پر بھی سخت تنقید کی، ان کا کہنا تھا کہ جب تک کرکٹ سے سیاسی اثر و رسوخ اور ذاتی مفادات کا خاتمہ نہیں ہوگا، مضبوط اور باوقار ٹیم تشکیل دینا ممکن نہیں۔
یہ بھی پڑھیں:سابق کرکٹر ہارٹ اٹیک سے انتقال کر گئے
حالیہ ٹی 20 ورلڈ کپ میں بھارت کیخلاف شکست کو بھی افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ صورتحال ملکی کرکٹ کی تاریخ کا سیاہ ترین دور محسوس ہوتی ہے۔
محمد یوسف نے مزید کہا کہ نااہل افراد کو نہ صرف عہدوں سے بلکہ ٹیم سے بھی ہٹایا جانا چاہیے تاکہ میرٹ کی بنیاد پر فیصلے ہوں اور پاکستان کرکٹ دوبارہ عروج حاصل کر سکے۔