ننھی ایتھلیٹ کی غیر معمولی جیت، عمر پر تنازعہ کھڑا ہوگیا
Kainat Khalil runner
فائل فوٹو
کراچی:(ویب ڈیسک) نو سالہ کائنات خلیل کی غیر معمولی کارکردگی نے سب کو حیران کر دیا مگر عمر کے ضوابط پر اٹھنے والے اعتراضات نے نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

کراچی کی رہائشی تیسری جماعت کی طالبہ کائنات خلیل نے کم عمری میں طویل فاصلے کی دوڑ مکمل کر کے کھیلوں سے منسلک حلقوں کو چونکا دیا ہے۔

 حالیہ کراچی میراتھن میں انہوں نے اکیس کلومیٹر کی دوڑ نمایاں وقت میں مکمل کی تاہم مقابلے کے اختتام پر منتظمین نے عمر کی بنیاد پر انہیں نااہل قرار دیتے ہوئے تمغہ دینے کے بجائے اعزازی انعام دیا ہے، اس فیصلے نے خوشی کے لمحات کو سوالات میں بدل دیا۔

اس سے قبل قومی سطح کے مقابلوں میں بھی وہ دس ہزار میٹر میں کانسی کا تمغہ حاصل کر چکی تھیں لیکن بعد ازاں پانچ ہزار میٹر کی دوڑ میں شرکت سے روک دیا گیا، کھیلوں سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ اگر عمر سے متعلق کوئی پابندی تھی تو اسکی جانچ پڑتال رجسٹریشن کے مرحلے پر ہونی چاہیے تھی نہ کہ کامیابی کے بعد اعتراض اٹھنا چاہیے تھا۔

کائنات کے کوچ ابوبکر کے مطابق ٹرائلز کے وقت کسی نے اعتراض نہیں اٹھایا مگر نمایاں کارکردگی کے بعد سوال سامنے آئے، دوسری جانب بعض منتظمین کا موقف ہے کہ کم عمر بچوں کے لیے طویل فاصلے کی دوڑ کے قواعد واضح ہیں اور ان پر عمل ضروری ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ٹی 20 ورلڈ کپ: مشہور پاکستانی کرکٹر امریکی سکواڈ میں شامل

طبی ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ کمسن بچوں کے جسم ابھی مکمل طور پر مضبوط نہیں ہوتے اس لیے سخت جسمانی مقابلوں میں احتیاط ناگزیر ہے، انکا کہنا ہے کہ واضح رہنما اصول و موثر نگرانی ہی بچوں کو محفوظ رکھ سکتی ہے۔

کائنات کے والد کا کہنا ہے کہ وہ بیٹی کے خواب کو آگے بڑھانا چاہتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ اسے برابر کے مواقع ملیں۔

ماہرین کے نزدیک یہ معاملہ صرف ایک باصلاحیت بچی کا نہیں بلکہ پورے کھیلوں کے نظام کی سنجیدگی کا امتحان ہے، اگر ضابطے بچوں کی حفاظت کے لیے ہیں تو انہیں بروقت اور شفاف انداز میں نافذ کرنا ہوگا تاکہ کامیابی کے بعد تنازع جنم نہ لے اور کھیل کا وقار برقرار رہے۔