نئے نظام کے تحت شہریوں کو اب نادرا رجسٹریشن مراکز جانے کی ضرورت نہیں ہوگی بلکہ وہ اپنے قریبی مجاز ای۔فرنچائز آؤٹ لیٹس سے شناختی کارڈ سے متعلق خدمات حاصل کر سکیں گے۔
نادرا کے ترجمان سید شباحت علی کے مطابق اس منصوبے کا آغاز 18 ای۔ فرنچائز مراکز کے ساتھ بطور پائلٹ پراجیکٹ کیا گیا تھا، کامیابی کے بعد اس نیٹ ورک کو پورے پاکستان میں 2 ہزار سے زائد مراکز تک توسیع دے دی گئی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اس سروس کے لیے شہریوں کے پاس اسمارٹ فون یا انٹرنیٹ ہونا ضروری نہیں، درخواست دہندگان قریبی ای۔فرنچائز مرکز جا کر اپنا شناختی کارڈ نمبر فراہم کریں گے جہاں تصاویر اور فنگر پرنٹس کے ذریعے بائیومیٹرک تصدیق نادرا کے ریکارڈ سے کی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں: حکومت کا لاہور میں رمضان ریلیف فیسٹیول کے انعقاد کا اعلان
ترجمان کے مطابق فی الوقت ای۔ فرنچائز مراکز پر صرف شناختی کارڈ کی تجدید اور گمشدہ کارڈ کے دوبارہ اجرا کی سہولت دستیاب ہے اور ان خدمات کے لیے ایف آئی آر درج کروانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔
ڈیٹا سیکیورٹی سے متعلق خدشات پر بات کرتے ہوئے سید شباحت علی نے کہا کہ شہری نادرا کی پاک-آئیڈینٹیٹی ایپ کے ذریعے اپنی ذاتی معلومات تک رسائی کی نگرانی کر سکتے ہیں جہاں یہ دیکھا جا سکتا ہے کہ کب اور کس مقصد کے لیے ان کا ڈیٹا بشمول شناختی کارڈ کی تفصیلات، فنگر پرنٹس یا کیو آر کوڈ استعمال کیا گیا۔