ٹونی پگوٹ نے 1978 میں کم عمری میں سسیکس کی جانب سے فرسٹ کلاس کرکٹ میں ڈیبیو کیا۔ اپنے کیریئر کے آغاز میں ہی انہوں نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہوو میں سرے کے خلاف اپنی پہلی ہی فرسٹ کلاس وکٹ کو ہیٹ ٹرک میں تبدیل کر دیا۔ یہ کارنامہ اس لیے بھی غیر معمولی تھا کہ اس سے قبل وہ دو میچز میں کوئی وکٹ حاصل نہیں کر سکے تھے، تاہم اس ایک اسپیل نے انہیں فوری طور پر نمایاں کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں: ٹی 20 ورلڈکپ: قومی ٹیم کی آفیشل کٹ کی شاندار رونمائی
ان کا واحد ٹیسٹ میچ بھی غیر معمولی حالات میں کھیلا گیا۔ 1983-84 کے دورۂ نیوزی لینڈ کے دوران وہ وہاں کلب کرکٹ کھیل رہے تھے کہ اچانک انگلینڈ کی ٹیم کو شدید انجری مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔ ایسے میں انہیں قومی ٹیم میں شامل کر لیا گیا۔ اس میچ کے لیے ٹونی پگوٹ کو اپنی شادی تک ملتوی کرنا پڑی، جو اسی میچ کے فوراً بعد پیر کے روز طے تھی، جو ان کی کرکٹ سے وابستگی اور پیشہ ورانہ عزم کی ایک یادگار مثال ہے۔
1994 میں انہوں نے سسیکس چھوڑ کر سرے جوائن کیا، تاہم کمر کی مسلسل تکالیف کے باعث وہ صرف دو سال بعد کرکٹ سے ریٹائر ہو گئے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد وہ دوبارہ سسیکس واپس آئے اور سیکنڈ ٹیم کے کوچ کے طور پر خدمات انجام دینے لگے۔ ایک سال بعد کلب کے انتظامی ڈھانچے میں تبدیلی آئی اور انہیں چیف ایگزیکٹو مقرر کیا گیا۔
چیف ایگزیکٹو کی حیثیت سے ٹونی پگوٹ نے سسیکس کو ترقی کی نئی راہوں پر گامزن کیا۔ ان کے دور میں سسیکس مستقل فلڈ لائٹس لگانے والا پہلا کاؤنٹی کلب بنا، جبکہ 2003 میں کلب نے اپنی تاریخ کی پہلی کاؤنٹی چیمپئن شپ بھی جیتی، جو ایک تاریخی کامیابی تھی۔