عمان میں کام کرنے والے پاکستانیوں کے لیے اہم لیبر ایڈوائزری جاری
بیورو کی جاری کردہ ایڈوائزری کے مطابق سلطنت عمان کے لیبر قانون کے تحت پروبیشن پیریڈ ملازمت کی ابتدائی آزمائشی مدت ہوتی ہے، جس کے دوران آجر اور ملازم دونوں یہ جائزہ لیتے ہیں کہ ملازمت کا سلسلہ جاری رکھنا مناسب ہے یا نہیں۔
عمان کے لیبر قانون کے آرٹیکل 37 کے تحت پروبیشن پیریڈ کی شرط ملازمت کے معاہدے میں واضح طور پر درج ہونا ضروری ہے، تاکہ ملازم کو ملازمت شروع کرتے وقت ہی آزمائشی مدت کے بارے میں معلوم ہو۔
ایڈوائزری میں بتایا گیا ہے کہ ماہانہ تنخواہ پر کام کرنے والے ملازمین کے لیے پروبیشن پیریڈ زیادہ سے زیادہ تین ماہ، جبکہ دیگر اجرتی نظام کے تحت کام کرنے والے ملازمین کے لیے زیادہ سے زیادہ دو ماہ مقرر ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اپنی چھت اپنا گھر پروگرام، خاندانوں کو بلاسود قرضے دینے کا ہدف
قانون کے مطابق کسی ملازم کو ایک ہی ملازمت کے دوران دوبارہ پروبیشن پیریڈ پر نہیں رکھا جاسکتا۔ اس پابندی کا مقصد کارکنوں کو بار بار آزمائشی مدت میں رکھنے اور ان کے قانونی حقوق متاثر ہونے سے بچانا ہے۔
بیورو کے مطابق پروبیشن پیریڈ کامیابی سے مکمل کرنے والے ملازم کی یہ مدت مجموعی سروس میں شمار کی جاتی ہے، جس سے اس کا ملازمتی ریکارڈ اور متعلقہ حقوق برقرار رہتے ہیں۔
ایڈوائزری میں ملازمت ختم کرنے کے طریقہ کار سے متعلق بھی وضاحت کی گئی ہے۔ اگر پروبیشن پیریڈ کے دوران آجر یا ملازم یہ فیصلہ کرے کہ ملازمت جاری رکھنا مناسب نہیں تو دونوں میں سے کوئی بھی معاہدہ ختم کرسکتا ہے، تاہم اس کے لیے کم از کم سات دن پہلے تحریری نوٹس دینا ضروری ہے۔
بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ نے پاکستانی کارکنوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ عمان میں ملازمت اختیار کرتے وقت معاہدے کی تمام شرائط کا بغور جائزہ لیں، خصوصاً پروبیشن پیریڈ، ملازمت کی مدت اور معاہدہ ختم کرنے سے متعلق شقوں کو سمجھیں تاکہ کسی ممکنہ قانونی پیچیدگی سے بچا جاسکے۔