مذاکرات ڈھونگ تھے، ایمرجنسی کا فیصلہ پہلے ہی کرلیا تھا، راجا ناصر عباس
راجا ناصر عباس نے کہا کہ آئین کی روح کے خلاف ترامیم درست نہیں اور عوام کو اپنے نمائندے منتخب کرنے کے حق سے محروم نہیں کیا جانا چاہیے۔ فروری 2024 سے ملک میں جو کچھ ہو رہا ہے، عوام اس سے خوش نہیں، اس لیے ایسے اقدامات سے گریز کیا جائے جن سے عوام نظام سے لاتعلق ہو جائیں۔
انہوں نے کہا کہ مذاکرات کے دوران سیاسی معاملات پر اتفاق رائے ہو چکا تھا، تاہم اختلاف اس وقت پیدا ہوا جب سیکیورٹی کے مسائل پر بات ہوئی۔ ان کے بقول حکومت نے سیاسی معاملات کو امن و امان کی صورتحال کے ساتھ جوڑ دیا۔
یہ بھی پڑھیں: مشاق طیارہ حادثہ، شہید میجر حسنین اور کیپٹن عبدالصمد کی نماز جنازہ ادا
اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی، حالانکہ وہ ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ہیں۔ ان کے مطابق اپوزیشن نے اس بات پر بھی آمادگی ظاہر کی تھی کہ ملاقات نہ بھی کرائی جائے تو مذاکرات آگے بڑھائے جائیں، لیکن اس کے باوجود پیش رفت نہیں ہوئی۔
راجا ناصر عباس نے خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے اقدامات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس سے نوجوانوں کو منفی پیغام ملے گا اور سیاسی جدوجہد کی اہمیت کم ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس طرح امن قائم نہیں ہو سکتا اور اس کے نتائج ملک کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ گورنر راج ختم کیا جائے اور سیاسی مسائل کا حل مذاکرات کے ذریعے نکالا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ اختلاف رائے برداشت کرنا جمہوری نظام کا بنیادی تقاضا ہے۔
سینیٹ اجلاس میں پی ٹی آئی کے سینیٹر علی ظفر نے بھی حکومت پر آئین شکنی کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ، اسپیکر اور دیگر وزرا کی گرفتاریوں سے آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔