پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا معاملہ سینیٹ میں پہنچ گیا
سینیٹر منظور احمد کی زیر صدارت اجلاس میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کے موجودہ طریقہ کار، روزانہ قیمتوں کا جائزہ لیا گیا۔
وزارت پیٹرولیم اور اوگرا کے حکام نے بتایا کہ قیمتوں کا تعین اوگرا کی ذمہ داری ہے، عرب گلف کے ریٹس پر سات دن میں آنے والے کارگوز کی ایوریج نکالی جاتی ہے۔ ماضی میں ماہانہ جائزہ لیا جاتا تھا تاہم ایران، اسرائیل جنگ کے دوران روزانہ جائزہ لیا گیا۔
چیئرمین کمیٹی نے کہا جب ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی کھیپ پہنچ رہی ہو اور ذخائر بھی وافر مقدار میں دستیاب ہوں تو قیمتوں میں محض چند پیسوں کی کمی کیوں کی جاتی ہے، 5 روپے اضافہ اور صرف 75 پیسے کمی ہوتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: عالمی منڈی میں خام تیل سستا
حکام نے بتایا کہ وزیراعظم فیول سبسڈی کے تحت ایک کروڑ افراد کا اندراج ہو چکا اور تقریباً 90 لاکھ افراد مستفید ہو چکے ہیں جبکہ 9 ہزار 700 فیول سٹیشنز یہ سہولت فراہم کر رہے ہیں۔
اجلاس میں انٹر گیس سسٹم (پرائیویٹ)لمیٹڈ کے 15 مستقل ملازمین کو فارغ کرنے کے معاملے پر کمپنی کے نمائندہ نے بتایا کہ اخراجات میں اضافے اور آپریشنز بند ہونے کے پیش نظر ملازمین کو برطرف کیا گیا۔
رکن کمیٹی سعدیہ عباسی نے کہا اپنے وزیر کو بھی بتائیں لوگوں کے ساتھ یہ ظلم ہو رہا ہے ، وزرا کے ساتھ بڑے بڑے قافلے چل رہے اور لوگوں کے چولہے ٹھنڈے کیے جا رہے ، سرکاری وسائل کا بے دریغ استعمال ہو رہا جبکہ ان کی اپنی بے شمار مراعات ہیں۔
چیئرمین کمیٹی نے برطرفیوں پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے ہدایت کی کمپنی ملازمین کی بھرتی اور برطرفی کے قواعد و ضوابط اور متاثرہ ملازمین کی فہرست آئندہ اجلاس میں پیش کرے ۔ کوئٹہ کے مبارک ٹاؤن میں گیس کنکشنز سے متعلق کمیٹی نے کہا تاخیر محکمے کی وجہ سے ہوئی نیا ڈیمانڈ نوٹس جاری کرنا غیر قانونی ہے ، متعلقہ محکمہ قابل عمل حل پیش کرے۔