حکومت کا مولانا فضل الرحمان سے رابطہ، کے پی حکومت کو ایک اور موقع دینے کی تجویز
ذرائع کے مطابق وفاقی کابینہ کے اجلاس میں خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات اور امن و امان کی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا۔
اجلاس میں ارکان نے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے صوبائی حکومت کے کردار اور وفاق کے ساتھ تعاون کے معاملے پر بھی سوالات اٹھائے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ کابینہ اجلاس میں یہ تجویز پیش کی گئی کہ خیبرپختونخوا حکومت کے مستقبل کے حوالے سے کوئی بھی حتمی فیصلہ کرنے سے پہلے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے ذریعے آخری کوشش کی جائے، تاکہ معاملے کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کا امکان دیکھا جا سکے۔
ذرائع کے مطابق اجلاس کے دوران نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے مولانا فضل الرحمان سے ٹیلی فونک رابطہ بھی کیا۔ رابطے کا مقصد خیبرپختونخوا کی موجودہ صورتحال اور صوبائی حکومت کے حوالے سے آئندہ کے لائحہ عمل پر مشاورت کرنا بتایا گیا ہے۔
اجلاس میں ہونے والی اس پیش رفت کو خیبرپختونخوا سے متعلق وفاقی حکومت کے آئندہ فیصلوں کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
تاہم صوبائی حکومت کو ایک اور موقع دینے کی تجویز پر حتمی فیصلے، اسحاق ڈار اور مولانا فضل الرحمان کے درمیان گفتگو کی تفصیلات اور وفاقی کابینہ کے آئندہ لائحہ عمل کے حوالے سے باضابطہ اعلان سامنے آنا باقی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:خیبرپختونخوا میں گورنر راج لگانے کا فیصلہ
خیبرپختونخوا میں امن و امان کی صورتحال اور وفاقی و صوبائی حکومتوں کے تعلقات پر اب آئندہ حکومتی اقدامات کو اہمیت دی جا رہی ہے۔