اسلام آباد پر کسی کو چڑھائی کی اجازت نہیں دیں گے، محسن نقوی
واضح رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے آج پی ٹی آئی لانگ مارچ سے متعلق کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ہر سیاسی جماعت کو پرامن احتجاج کا حق حاصل ہے مگر سڑکیں بند کرنے کی اجازت نہیں ہے۔
وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ کسی دوسرے صوبے یا وفاقی دارالحکومت پر کسی بھی طرح کا دعویٰ یا یلغار قابل قبول نہیں، اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔
وزیر داخلہ نے پریس کانفرنس میں کہا کہ تمام لاء انفورسمنٹ ایجنسیز کو واضح ہدایات جاری کردی گئی ہیں، اگر کوئی اسلام آباد آنے کی کوشش کرتا ہے اور اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کی خلاف ورزی کرتا ہے تو پہلے قانونی طور پر اس کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کے لیے جائیں گے اور دوسرے نمبر پر انہیں ہر ممکن طریقے سے روکیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: لانگ مارچ کا حتمی پلان کس کے پاس؟ شیخ وقاص نے بتا دیا
محسن نقوی کا کہنا تھا کہ ماضی میں سکیورٹی اہلکاروں کے نقصانات بہت زیادہ ہوتے رہے ہیں اور دوسری جانب سے ہتھیار بھی استعمال کیے گئے ہیں۔ سوشل میڈیا اور دیگر جگہوں پر مخصوص قبائل کے لوگوں کے آنے سے متعلق باتیں بھی کی جارہی ہیں۔ اس بار سکیورٹی اہلکاروں کو بہت واضح رولز آف انگیجمنٹ دیے جارہے ہیں کوئی یہ توقع نہ رکھے کہ اگر ان پر گولی چلائی جائے گی تو وہ خاموش بیٹھے رہیں گے۔
وزیر داخلہ نے سیاسی قیادت سے اپیل کی کہ احتجاج کرنا ہے تو ضرور کریں، اپنے علاقے اور اپنے شہر میں احتجاج کریں لیکن وفاقی دارالحکومت کو بند کرنے کی منصوبہ بندی یا کسی دوسرے صوبے میں اس طرح جا کر حملہ کرنے کی اجازت کسی صورت نہیں دی جاسکتی۔
محسن نقوی نے کہا کہ آج کوہاٹ میں بڑا دہشت گردی کا واقعہ ہوا ہے اور اس حوالے سے مزید تفصیلات بھی سامنے آئی ہیں، ایک طرف خیبرپختونخوا میں روزانہ دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑی جارہی ہے، اس لیے اس وقت 90 فیصد توجہ دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں پر ہونی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ اس کے بجائے تمام توجہ افراد اکٹھے کرنے، چندہ جمع کرنے اور ٹرانسپورٹ کا انتظام کرنے پر مرکوز کرنا مناسب نہیں۔ موجودہ صورتحال میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کو ترجیح دینا ضروری ہے۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ جان و مال کا تحفظ اور اسلام آباد سمیت اپنی حدود میں اس طرح کے احتجاج کو روکنا وزیر داخلہ کی ذمہ داری ہے، وفاقی دارالحکومت میں بدامنی کسی صورت پھیلانے نہیں دیں گے۔
پریس کانفرنس کرتے ہوئے محسن نقوی نے کہا کہ چاہے وہ خود وزیر داخلہ ہوں، طلال چوہدری ہوں یا اس عہدے پر کوئی بھی شخص بیٹھا ہو، اس کا فرض ہے کہ جان و مال کا تحفظ کرے اور اسلام آباد میں اس طرح کے احتجاج کو ہر صورت روکے۔
انہوں نے کہا کہ سیاسی جلسے جلوس اور یلغار کرنے والے جتھوں میں فرق ہوتا ہے۔ سیاسی جلسے، جلوس اور سیاسی سرگرمیاں ہوتی رہتی ہیں، لیکن اس طرح جتھوں کی صورت میں آنا اور ہر طرح سے لیس ہوکر آنا نہ سیاسی سوچ کی عکاسی کرتا ہے اور نہ کسی سیاسی جماعت کو زیب دیتا ہے۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ اس بار عدالت کے فیصلے اور اس سے پہلے کے عدالتی احکامات میں صورتحال واضح ہے، اللہ نہ کرے اگر ایک بھی جان جاتی ہے تو اس کے ذمہ دار وہ لوگ ہوں گے جو اس سارے اجتماع کے آرگنائزرز ہیں اور لوگوں کو اکٹھا کررہے ہیں۔
محسن نقوی نے اپوزیشن کے سنجیدہ رہنماؤں سے بھی کہا کہ لڑائی جھگڑے سے کسی کو فائدہ نہیں ہوگا، بلکہ اس سے ملک، معیشت، صوبے اور صوبے کے عوام کا نقصان ہوگا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اپوزیشن میں موجود سنجیدہ رہنما اس فیصلے پر نظرثانی کریں گے۔
وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ وزیراعظم کئی مرتبہ پارلیمنٹ میں بات چیت کی پیشکش کرچکے ہیں اور مجموعی طور پر مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔ اگر کوئی سمجھتا ہے کہ جتھوں کے ذریعے مسائل حل ہوسکتے ہیں تو پھر حکومت اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے بھی تیار ہے۔