سانحہ پمز: واحد بچ جانے والی بچی بھی جان کی بازی ہار گئی
اسپتال انتظامیہ کے مطابق نومولود بچی ایزل پری میچور پیدا ہوئی تھی اور پیدائش کے بعد سے پمز اسپتال میں زیر علاج تھی۔ بچی کی حالت انتہائی تشویشناک تھی اور ڈاکٹرز کی جانب سے اسے بچانے کی بھرپور کوشش کی گئی، تاہم وہ جانبر نہ ہوسکی۔
جاں بحق ہونے والی بچی کے والد وقاص نے بھی ایزل کے انتقال کی تصدیق کردی ہے۔ ان کے مطابق ایزل پیدائش کے بعد سے ہی اسپتال میں زیر علاج تھی اور اس کی طبی حالت مسلسل تشویشناک رہی۔
خاندانی ذرائع کے مطابق ایزل کی پیدائش مقررہ مدت سے تقریباً تین ماہ قبل، 6 ماہ اور 10 دن میں ہوئی تھی، نومولود بچی کا تعلق کشمیر سے بتایا گیا ہے۔
پمز اسپتال میں آگ لگنے کے واقعے کے دوران نرس رضیہ نورین نے ایزل کو بحفاظت نکال کر اس کی جان بچائی تھی۔ واقعے کے بعد ایزل کو طبی نگرانی میں رکھا گیا، تاہم کئی روز زیر علاج رہنے کے باوجود وہ زندگی کی جنگ ہار گئی۔
ایزل کے انتقال کی خبر سامنے آنے کے بعد سانحہ پمز کی شدت مزید بڑھ گئی ہے۔ لواحقین اور متعلقہ حلقوں کی جانب سے واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:رکن پنجاب اسمبلی چوہدری محمد حنیف جٹ انتقال کرگئے
پمز سانحے میں جاں بحق ہونے والے نومولود بچوں کی مجموعی تعداد 15 ہوگئی ہے، جبکہ واقعے کے حوالے سے مزید تفصیلات سامنے آنے کا سلسلہ جاری ہے۔