امیر جماعت اسلامی کا مطالبات نہ ماننے پر حکومت گراؤ تحریک چلانے کا اعلان
اُنہوں نے کہا کہ ہماری تحریک نظام بدلنے کی تحریک ہے، موجودہ حکومتی نظام نے جاگیرداروں اور وڈیروں پر مشتمل کنسورشیم بنا رکھا ہے جو عوام کو حقِ حکمرانی سے محروم کرتا ہے۔ 6 ستمبر کو لوگوں نے ٹینکوں کے سامنے لیٹ کر ملک کا دفاع کیا۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ اگر حکومت سود کی شرح میں 3 فیصد کمی کردے تو قومی خزانے کے 1,500 ارب روپے بچائے جاسکتے ہیں، شہباز شریف کہتے تھے کہ سود کی لعنت ختم کریں گے، لیکن ایسا نہیں کر سکے۔ سود کو بتدریج کم کیا جائے تو عوام کو بھی مسلسل ریلیف ملتا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: نادرا کی طرف سے شہریوں کیلئے ایک اور سہولت متعارف
اُن کا کہنا تھا کہ بیوروکریسی کو کئی کئی کنال کے گھر، بڑے بنگلے اور بڑی گاڑیوں کے ساتھ مفت پٹرول کی سہولت حاصل ہے۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ چاہے افسر کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو، سرکاری گاڑی 1300 سی سی سے بڑی نہیں ہونی چاہیے، البتہ اپنی ذاتی گاڑی جتنی مرضی بڑی رکھیں، ہماری مائیں اور بہنیں رکشوں پر دھکے کھانے پر مجبور ہیں۔
حافظ نعیم الرحمان نے خبردار کیا کہ اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو پہیہ جام ہڑتال کی کال دی جائے گی اور پٹرول پمپس، دکانیں اور گاڑیاں سمیت پورا ملک بند کرنے کی طرف جائیں گے۔