"عہدہ رہے نہ رہے نئے صوبوں کے مطالبے سے پیچھے نہیں ہٹوں گا"
لاہور میں قومی پالیسی مکالمہ کے عنوان سے جاری تقریب میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اسلام آباد واحد شہر ہے جسے کوئی بجٹ نہیں ملتا، سی ڈی اے اپنی زمینیں بیچ کر سسٹم چلاتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ کیا بلوچستان میں کوئٹہ، کے پی کے میں پشاور، پنجاب میں لاہور اور سندھ میں کراچی جیسا کوئی شہر ہے ؟ میرے خیال سے جو مئیر ہوتا ہے، وہ عام آدمی کے مسائل زیادہ بہتر جانتا ہے، میں اب اس سے پیچھے نہیں ہٹنے والا، نئے مئیر تو آئیں گے، اگر عوام کی بہتری کے لیے نئے انتظامی یونٹس ضروری ہیں اور عوام بھی یہی چاہتی ہے تو پھر اس میں رکاوٹ نہیں بننا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ ری سیٹ یا نظام سے متعلق بیان میں میرا اشارہ نہ کسی سیاسی جماعت کی طرف تھا نہ ہی کسی سیاسی بندوبست کی طرف میں نے اس نظام کے ری سیٹ کی بات کی جو 79 سے چل رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: شکایات کے ازالہ تک حکومت کا ساتھ نہیں دیں گے: پیپلزپارٹی
محسن نقوی نے کہا کہ 5 ویں کلاس کا بچہ عام جملے بھی نہیں پڑھ پاتا یہ ہمارے ایجوکیشن کا حال ہے، میں اس نوکری پر رہوں یا نا رہوں، میں اس چیز سے پیچھے نہیں ہٹوں گا، چاہے جو بھی نتیجہ ہو۔
ان کا کہنا تھا کہ نئے صوبے بنانے کا کام آئین کے اندر رہ کر کرنا ہے۔ نئے انتظامی یونٹس بنانے یا نہ بنانے کا فیصلہ کسی حکومت یا جماعت کو نہیں بلکہ عوام کی مرضی سے ہونا چاہیے، اگر پاکستان کے عوام چاہتے ہیں کہ نئے انتظامی یونٹس بنیں تو وہ ہر صورت بننے چاہییں، لیکن اگر عوام نہیں چاہتی تو یہ یونٹس نہیں بننے چاہییں۔
انہوں نے کہا کہ ایڈمنسٹریٹو یونٹ سے متعلق آجکل بہت جذباتی تقاریر ہورہی ہیں، پلیز اس پر جذباتی نہ ہوں، یہ ایسی چیز نہیں ہے جو کل پرسوں ہونے جارہی ہے، یہ صرف اس صورت میں ہوگی اگر عوام چاہے گی، اس میں آپ کی رائے میٹر نہیں کرتی عوام کی رائے اہمیت رکھتی ہے، سارے ریلیکس رہیں۔