ملک بھر میں کاروباری اوقات بڑھانے کی سفارش
پاور ڈویژن نے اس تجویز کی مخالفت کرتے ہوئے اضافی بجلی کی ضرورت اور پیداواری لاگت میں اضافے کے خدشات ظاہر کردیئے۔
سینیٹر طلحہ محمود کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں کاروباری اوقات کار سمیت ملک کی صنعتی اور معاشی صورتحال سے متعلق اہم امور کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں کاروباری برادری نے مؤقف اختیار کیا کہ انکم ٹیکس اور سیلز ٹیکس میں اضافہ اسی وقت ممکن ہے جب کاروباری سرگرمیاں جاری رہیں اور مارکیٹیں زیادہ دیر تک کھلی رہیں۔
پاور ڈویژن حکام نے کاروباری اوقات میں اضافے کی مخالفت کرتے ہوئے بتایا کہ اوقات کار بڑھانے کیلئے تقریباً 600 میگاواٹ اضافی بجلی درکار ہوگی، ملک میں اس وقت صرف ایک دن کا ایل این جی اسٹاک موجود ہے، جبکہ اسپاٹ کارگوز درآمد کرنے کی صورت میں بجلی کی پیداواری لاگت مزید بڑھ سکتی ہے۔
حکام نے خبردار کیا کہ فرنس آئل پلانٹس چلانے کی صورت میں فی یونٹ فیول کاسٹ میں تقریباً 5 روپے تک اضافہ ہوسکتا ہے۔
اجلاس میں کاروباری اوقات کار کو بتدریج معمول پر لانے کیلئے ابتدائی طور پر 30 منٹ اضافے کی سفارش کی گئی۔ اس کے علاوہ پاکستان سے صنعتوں کی منتقلی، ایف بی آر کی گورننس، افسران کی دہری شہریت، صنعتی پالیسی اور کاروباری برادری کو سہولت فراہم کرنے کے معاملات پر بھی غور کیا گیا۔
ایف بی آر حکام نے بتایا کہ کاروباری برادری کے ساتھ اعتماد سازی کیلئے مشترکہ کمیٹیوں سمیت مختلف اقدامات کیے گئے ہیں۔ وزیراعظم کی ہدایت پر چیئرمین ایف بی آر ہر ماہ کے پہلے ہفتے کراچی میں کیمپ آفس قائم کریں گے، جبکہ لاہور میں بھی دو روزہ کیمپ آفس قائم کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پارلیمنٹ چاہے تو نئے صوبے بن سکتے ہیں:اعظم نذیرتارڑ
ذیلی کمیٹی نے ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز اور اسپیشل اکنامک زونز کو 2035 تک مرحلہ وار ختم کرنے سے متعلق آئی ایم ایف کی شرط پر دوبارہ مذاکرات کی سفارش بھی کی، تاکہ پاکستان کے صنعتی اور سرمایہ کاری مفادات کو تحفظ دیا جاسکے۔