عمران خان رہائی کے بعد آرمی چیف سے محاذ آرائی نہیں کرینگے: زلفی بخاری
رائٹرز کو انٹرویو دیتے ہوئے زلفی بخاری نے کہا کہ اگر عمران خان کو کل رہا کر دیا جائے تو وہ ایسا کوئی اقدام نہیں کریں گے جس سے ملک کو نقصان پہنچے، عمران خان وسیع ظرف انسان ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس کا مطلب یہ نہیں کہ عمران خان اسٹیبلشمنٹ یا فوجی قیادت سے محاذ آرائی کریں گے، وہ ملک کی بہتری کے لیے اپنے دکھ اور تکلیف کو برداشت کر سکتے ہیں۔
زلفی بخاری نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کو پاکستان کا طاقتور ترین شخص قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر وہ ملک کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کا فیصلہ کریں تو وہ ’’شفا دینے والا ہاتھ‘‘ ملک پر رکھ سکتے ہیں۔ ان کے مطابق ایسی صورت میں ہر سیاسی قیدی 24 گھنٹوں کے اندر رہا ہو سکتا ہے۔
زلفی بخاری نے بتایا کہ پی ٹی آئی اور فوج کے درمیان فی الحال کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے، جبکہ پارٹی رہنماؤں نے گزشتہ آٹھ ماہ سے عمران خان سے براہ راست بات نہیں کی۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان شفا انٹرنیشنل ہسپتال سے واپس اڈیالا جیل منتقل
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی 27 ستمبر کو ملک گیر احتجاجی مارچ کرے گی، چاہے عمران خان کو ہسپتال منتقل کیا جائے یا نہیں، احتجاج میں عمران خان کے عدالتی حکم کے مطابق علاج، اہل خانہ، ڈاکٹروں، وکلا اور پارٹی قیادت کو رسائی دینے، مقدمات کی فوری سماعت اور ان کی رہائی کے مطالبات کیے جائیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ روپوش پی ٹی آئی کے سینئر رہنما احتجاجی تحریک میں شرکت یا اسے منظم کرنے میں کردار ادا کریں گے۔
تاہم حکومت اور فوج نے زلفی بخاری کے ان بیانات پر فوری طور پر کوئی ردعمل نہیں دیا۔ فوج ماضی میں کہہ چکی ہے کہ وہ سیاست میں مداخلت نہیں کرتی، جبکہ حکومت کا مؤقف ہے کہ عمران خان کے خلاف مقدمات عدالتوں میں زیر سماعت معاملات ہیں۔
دوسری جانب اٹلانٹک کونسل کے سینئر فیلو مائیکل کوگل مین کے مطابق، عمران خان کی عدم موجودگی میں یہ واضح نہیں کہ پی ٹی آئی قیادت ریاست کے ساتھ کسی ممکنہ رابطے یا مذاکرات میں متحدہ مؤقف پیش کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے یا نہیں۔