محسن نقوی کی باتیں غور طلب اور وقت کی ضرورت ہیں، عبدالعلیم خان
صدر آئی پی پی عبد العلیم خان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان کی بڑھتی آبادی اور انتظامی ضروریات کے پیشِ نظر ہر صوبے کو تین صوبوں (انتظامی یونٹس) میں تقسیم کیا جائے۔
صدر آئی پی پی نے کہا کہ موجودہ صوبوں کو نارتھ، سینٹرل اور ساؤتھ کے نام سے تین تین صوبوں میں تقسیم کیا جائے، اس طرح سے کسی بھی صوبے کا نام تبدیل کرنے کی ضرورت پیش نہیں آئے گی، صوبوں کی اس تقسیم سے تمام علاقوں کی تاریخی و ثقافتی شناخت مکمل طور پر برقرار رہے گی،
یہ بھی پڑھیں: جب تک نئی قیادت نہیں آئے گی، کام نہیں ہوگا: محسن نقوی
عبد العلیم خان نے کہا کہ نئے صوبے بننے سے عوام کے تمام مسائل کا پائیدار حل ممکن ہو سکے گا، شہریوں کو چھوٹے کاموں کے لیے سیکڑوں کلومیٹر کا لمبا سفر کر کے دارالحکومتوں میں جانا پڑتا ہے، اگر نئے صوبے بن جائیں اور مسائل دہلیز پر حل ہوں تو آخر کسی کو کیا تکلیف ہو سکتی ہے؟، ہاں اگر کسی کی 'بادشاہت' میں کمی آتی ہے تو وہ ایک الگ بات ہے۔
صدر آئی پی پی نے کہا کہ پاکستان ایک جمہوری ملک ہے جس میں بادشاہت کی کوئی گنجائش نہیں، نئے صوبوں کے قیام سے شہریوں کو طویل اور دشوار سفر نہیں کرنا پڑے گا، نئے صوبوں سے چیف سیکریٹری، آئی جی اور ہائی کورٹس زیادہ مؤثر اور فوری خدمات فراہم کریں گے۔
عبد العلیم خان نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے نئے صوبوں کے قیام کی بات صرف سیاسی نعروں تک محدود رہی ہے، اب وقت ہے کہ تمام سیاسی بصیرت کو ایک پیج پر لا کر اس وژن کو حقیقت بنایا جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ نئے صوبے ملک کو تقسیم نہیں کریں گے بلکہ قومی یکجہتی کو مضبوط اور مستحکم بنائیں گے، نئے صوبوں کی تشکیل سے معیشت مستحکم اور تمام علاقوں میں ترقی متوازن ہوگی۔