کوئٹہ کوئلہ کان حادثہ میں 34 مزدور جاں بحق
پی ڈی ایم اے بلوچستان کے آپریشنز مینجر محمد فہد کے مطابق سورینج میں واقع نجی کوئلہ کان میں گزشتہ روز پیش آنے والے حادثے کے بعد فوری طور پر ریسکیو آپریشن شروع کیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ اب تک 34 کانکنوں کی لاشیں کان سے نکالی جا چکی ہیں، جبکہ مزید دو مزدوروں کی تلاش کیلئے امدادی ٹیمیں مسلسل کام کر رہی ہیں۔
مزدور رہنما عمر حیات کے مطابق کان کے اندر اچانک زوردار دھماکہ ہوا، جس کے نتیجے میں کان کا بڑا حصہ بیٹھ گیا۔ دھماکے کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ اس وقت کام میں مصروف متعدد کانکن اندر ہی پھنس گئے۔ ریسکیو اہلکار انتہائی احتیاط کے ساتھ ملبہ ہٹانے اور پھنسے ہوئے مزدوروں تک پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ ریسکیو آپریشن اس وقت تک جاری رکھا جائے گا جب تک تمام مزدوروں کو کان سے نکال نہیں لیا جاتا۔ دوسری جانب حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے ابتدائی تحقیقات بھی شروع کر دی گئی ہیں، جبکہ حفاظتی اقدامات اور کان کنی کے ضوابط پر عمل درآمد کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:جب تک نئی قیادت نہیں آئے گی، کام نہیں ہوگا: محسن نقوی
یہ سانحہ ایک بار پھر کوئلہ کانوں میں مزدوروں کی حفاظت، جدید حفاظتی نظام اور مؤثر نگرانی کے حوالے سے سنجیدہ سوالات کھڑے کر رہا ہے۔
مقامی افراد اور مزدور تنظیموں نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت کان کنی کے شعبے میں حفاظتی معیارات کو مزید سخت بنائے تاکہ مستقبل میں ایسے افسوسناک واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکے۔