حج 2027 سے بڑی تبدیلیاں، حکومت کا پہلی بار 4 سالہ حج پالیسی کا اعلان
وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ پاکستان کا مجموعی حج کوٹہ ایک لاکھ 79 ہزار 210 برقرار رہے گا جبکہ سرکاری اور نجی حج اسکیموں کا تناسب بدستور 60 اور 40 فیصد ہوگا۔ ضرورت پڑنے پر وفاقی کابینہ اس میں تبدیلی کر سکے گی۔
حج کے متعلق نئی پالیسی کے مطابق عازمین پہلی بار چار سال پہلے تک رجسٹریشن کرا سکیں گے، درخواست گزار صرف متوقع حج اخراجات کا 10 فیصد جمع کرا کے اپنی درخواست رجسٹر کرا سکیں گے جبکہ انتخاب مکمل طور پر شفاف ڈیجیٹل ویٹنگ لسٹ کے تحت "پہلے آئیں، پہلے پائیں" کی بنیاد پر ہوگا۔
حکومت نے رہائش، ٹرانسپورٹ، کیٹرنگ، فضائی سفر اور سامان کی ترسیل سمیت اہم خدمات کیلئے تین سے چار سالوں کے معاہدوں کی گنجائش بھی رکھی ہے تاکہ بہتر منصوبہ بندی، اعلی معیار کی سہولتیں اور اخراجات میں کمی ممکن بنائی جا سکے۔
سرکاری حج اسکیم میں مختلف دورانیے کے متعدد پیکجز بھی متعارف کرائیں گے تاکہ عازمین اپنی ضرورت اور مالی استطاعت کے مطابق انتخاب کر سکیں جبکہ رقوم کی وصولی کا عمل بھی جلد شروع کیا جائے گا۔
پالیسی کے تحت رجسٹریشن، ادائیگی، نگرانی، شکایات کے ازالے اور حج جائزے سمیت تمام مراحل مکمل طور پر ڈیجیٹل نظام کے ذریعے انجام دیے جائیں گے۔ نجی حج کمپنیوں کے کیے پرائیویٹ حج منیجمنٹ پورٹل (PHMP) کا استعمال لازمی قرار دیا گیا ہے جس کے ذریعے بکنگ، ادائیگی، نگرانی اور آڈٹ کیا جائے گا۔
حکومت کا کہنا ہے کہ آئندہ وہ براہ راست حج انتظامات چلانے کے بجائے نگرانی، ریگولیشن اور معیار کو یقینی بنانے پر توجہ دے گی جبکہ نجی شعبے کا کردار مرحلہ وار بڑھایا جائے گا۔
پالیسی کے مطابق سرکاری اور نجی دونوں حج انتظامات کا ازادانہ تھرڈ پارٹی آڈٹ ہوگا جبکہ عازمین کی شکایات کے فوری ازالے کیلئے جدید ڈیجیٹل شکایت نظام بھی قائم کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: ایم ڈی کیٹ 2026 کا شیڈول جاری
وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف نے کہا کہ حج پالیسی وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایات اور سعودی ویژن 2030 سے ہم آہنگ کرتے ہوئے تیار کی گئی ہے نیز یہ صرف ایک نئی پالیسی نہیں بلکہ حج انتظامات میں دیرپا اصلاحات کا آغاز ہے جس کا مقصد عازمین کو عالمی معیار کی سہولتیں، شفاف نظام اور بہتر خدمات فراہم کرنا ہے۔