پنجاب بھر میں 555 سرکاری سکول بند کرنے کا فیصلہ
حکام کے مطابق یہ اقدام ان سکولوں کی کارکردگی اور طلبہ کی کم تعداد کے باعث کیا جا رہا ہے، ان اداروں کو قریبی ہائی یا ایلیمنٹری سکولوں میں ضم کیا جائے گا۔
محکمہ سکول ایجوکیشن کے مطابق مذکورہ سرکاری سکولوں کو آؤٹ سورس کرنے کے باوجود طلبہ کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ نہیں ہو سکا، ان سکولوں میں بچوں کی تعداد انتہائی کم ہے اور کئی اداروں میں 5 سے بھی کم طلبہ زیر تعلیم ہیں، جبکہ ان کیلئے تین، تین اساتذہ تعینات ہیں۔
یہ تمام سکول دوسرے سرکاری سکولوں سے صرف 2 کلومیٹر کے فاصلے کے اندر قائم ہیں، اس لیے انتظامی اخراجات کم کرنے اور تعلیمی سہولیات بہتر بنانے کیلئے انہیں قریبی سکولوں میں ضم کیا جا رہا ہے۔
محکمہ سکول ایجوکیشن کا کہنا ہے کہ 555 سکولوں کے انضمام کے بعد پنجاب بھر میں سرکاری سکولوں کی مجموعی تعداد تقریباً 37 ہزار رہ جائے گی۔ حکام کے مطابق صوبے میں اب تک 13 ہزار سرکاری سکول آؤٹ سورس کیے جا چکے ہیں، جبکہ مزید سکولوں کی کارکردگی کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔
تعلیمی حکام کے مطابق سکولوں کے انضمام کا مقصد وسائل کا بہتر استعمال، اساتذہ کی تعیناتی کو مؤثر بنانا اور طلبہ کو بہتر تعلیمی سہولیات فراہم کرنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ہیلی کاپٹر گر کر تباہ، 7 افراد جان کی بازی ہار گئے
دوسری جانب بعض حلقوں کی جانب سے خدشات کا اظہار بھی کیا جا رہا ہے کہ دور دراز علاقوں میں سکولوں کے خاتمے سے بچوں، خصوصاً کم عمر طلبہ، کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
محکمہ سکول ایجوکیشن کے مطابق تمام فیصلے طلبہ کی تعداد، فاصلے اور دستیاب تعلیمی سہولیات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیے جا رہے ہیں تاکہ صوبے میں تعلیمی نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔