پاکستان کا ہدف 2035 تک چاند پر قومی مشن بھیجنا ہے: احسن اقبال
امریکہ کے دورے کے دوران احسن اقبال نے ناسا اسپیس سینٹر بیوسٹن اور بے ایریا بیوسٹن اکنامک پارٹنر شپ میں ناسا کے اعلی احکام اور امریکی ایرو اسپیس کمپنیوں کے نمائندوں سے ملاقاتوں کے دوران پاکستان کے طویل المدتی خلائی وژن پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا ہے، انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان علم، تحقیق، جدت اور انسانی صلاحیتوں کی بنیاد پر ملک کو خلائی ٹیکنالوجی میں آگے لے جانا چاہتی ہے۔
انہوں نے نارووال میں عالمی معیار کے اسپیس لرننگ سینٹر اینڈ میوزیم کے قیام کا منصوبہ بھی پیش کیا جہاں طلبہ کو کہکشاؤں، بلیک ہولز، بگ بینگ، نظام شمسی اور انسانی خلائی سفر کے بارے میں جدید اور عملی انداز میں سیکھنے کے مواقع فراہم کیے جائیں گے، ناسا اور امریکی کمپنیوں نے بھی اس منصوبے میں تعاون اور پاکستان کے خلائی پروگرام کے ساتھ ادارہ جاتی شراکت داری میں دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: فیل لائیک درجہ حرارت کیا ہوتا ہے؟ جانیے
وفاقی وزیر نے کہا کہ چاند پر قومی مشن کے خواب کو حقیقت میں بدلنے کیلئے علم کی منتقلی، سائنسی تحقیق، مشن پلاننگ، تکنیکی تربیت اور ادارہ جاتی استعداد بڑھانے میں بین الاقوامی تعاون اہم کردار ادا کرے گا۔ انہوں نے ناسا اور امریکی کمپنیوں کو پاکستان کے باصلاحیت انجینئرز، سائنسدانوں اور آئی ٹی ماہرین کے ساتھ مشترکہ تحقیق، سافٹ ویئر ڈیویلپمنٹ اور جدید انجینئرنگ کے منصوبے شروع کرنے کی دعوت بھی دی ہے۔
احسن اقبال نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کے تعلیمی ادارے، خلائی سائنس کے خصوصی پروگرام اور نیشنل سینٹر فار سیٹلائٹ ٹیکنالوجی اینڈ جی آئی ایس مشترکہ تحقیق اور انسانی وسائل کی ترقی کیلئے موثر پلیٹ فارم ثابت ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے پاکستان اور امریکہ کے تعلقات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اب ان تعلقات کو روایتی شعبوں سے آگے بڑھاتے ہوئے تعلیم، صحت، موسمیاتی تبدیلی، جدت اور خلائی تحقیق تک وسعت دی جانی چاہیے۔
انہوں نے واضح کیا کہ عالمی گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں پاکستان کا حصہ 1٪ سے بھی کم ہے لیکن اس کے باوجود ملک موسمیاتی تبدیلی سے شدید متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے، اس لیے اس شعبے میں سائنسی تعاون بھی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ احسن اقبال نے کہا کہ مجوزہ پاکستان اسپیس لرننگ سینٹر دونوں ممالک کے درمیان جدید سائنسی شراکت داری کی علامت بن سکتا ہے اور نوجوان نسل کو مستقبل کی ٹیکنالوجی سے جوڑنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔