طلاق پر بیوی کو آدھی جائیداد دی جائے: سینیٹ کمیٹی میں تجویز آگئی
اجلاس میں سینیٹر سید علی ظفر نے نجی بل پر بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ متعدد خواتین نے شکایت کی ہے کہ طلاق کے بعد ان کے پاس نہ رہائش باقی رہتی ہے اور نہ ہی گزر بسر کا کوئی ذریعہ ہوتا ہے، انہوں نے اس پر تجویز دی کہ نکاح نامے میں ایسی شق شامل کی جائے جس کے تحت طلاق کی صورت میں شوہر کی جائیداد میں بیوی کا 50 فیصد حصہ مقرر کیا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ بیوی کی گھریلو خدمات، بچوں کی پرورش اور شوہر کے ساتھ زندگی بھر کی معاونت کو بھی قانونی طور پر معاشی شراکت تسلیم کیا جانا چاہیے، انہوں نے اس پر مزید بات کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے میں عدالتی سطح پر بھی بحث ہوچکی ہے اور بعض قانونی ماہرین نے شادی شدہ زندگی میں بیوی کی خدمات کو معاشی تعاون قرار دیا ہے۔
سینیٹر بشریٰ انجم نے کہا کہ اگر بیوی معاشی طور پر مستحکم ہو اور شوہر کی مالی معاونت بھی کرتی ہو تو ایسے حالات میں شوہر کے حقوق کا تحفظ بھی یقینی بنایا جانا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان نے جنگ کے خطرات کم کیے، اب مسلم اتحاد وقت کی ضرورت ہے، طاہر اشرفی
اجلاس کے دوران سینیٹر حافظ عبد الکریم نے مجوزہ بل کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ مغربی نظریات کو پاکستان میں نافذ کرنے کی کوشش نہیں ہونی چاہیے کیونکہ اسلام خواتین کو پہلے سے ہی مکمل حقوق دیتا ہے جبکہ سینیٹر علی نے موقف اپناتے ہوئے کہا کہ اگر ترکی اور ایران جیسے اسلامی ممالک میں اس نوعیت کے قوانین موجود ہیں تو انہیں محض مغربی قرار دینا درست نہیں۔
چیئرمین کمیٹی سینیٹر عطاء الرحمن کا کہنا تھا کہ پاکستان میں کوئی بھی قانون قرآن و سنت سے متصادم نہیں بنایا جاسکتا اس لیے اس معاملے پر اسلامی نظریاتی کونسل کی رائے لینا ضروری ہے، وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف نے بھی بل کر دوبارہ کونسل کے پاس بھیجنے کی حمایت کی جبکہ دوسری جانب سینیٹر دنیش کمار نے کہا کہ ہندو پرسنل لاء میں اس نوعیت کی گنجائش موجود ہے اس لیے وہ مجوزہ بل کی حمایت کرتے ہیں۔
تفصیلی بحث کے بعد کمیٹی نے آخر میں فیصلہ کیا کہ بل اسلامی نظریاتی کونسل کو بھجوایا جائے یا آئندہ اجلاس میں کونسل کے نمائندوں کو طلب کر کے انکی رائے حاصل کی جائے تاکہ اس روشنی میں آئندہ قانون سازی کا فیصلہ کیا گیا جائے۔