فتنہ الخوارج کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں: ڈی جی آئی ایس پی آر
راولپنڈی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری کا کہنا تھا کہ گزشتہ چار روز کے دوران بلوچستان میں دہشتگردی کے تین بڑے واقعات ہوئے، فتنہ الخوارج کے دہشتگردوں نے مذموم مقاصد کیلئے معصوم شہریوں کو نشانہ بنایا۔
انہوں نے بتایا کہ منگی ڈیم کوئٹہ پمپنگ اسٹیشن کے علاقے میں دہشتگردی کا واقعہ ہوا، دہشتگردوں نے زیارت میں پولیس چیک پوسٹوں کو نشانہ بنایا، بلوچستان کے بہادر عوام اور پولیس اہلکاروں نے دہشتگردوں کا دلیری سے مقابلہ کیا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ زیارت میں کم از کم 15 دہشت گرد جہنم واصل ہوئے، دہشتگردوں کے خلاف کارروائی میں پولیس کے 18 جوان شہید ہوئے، زیارت میں شہید ہونے والے تمام پولیس اہلکار مقامی تھے، مجموعی طور پر 26 خارجی جہنم واصل کیے گئے۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے کہا کہ آج ہونے والے واقعہ میں 14 دہشت گرد مارے گئے ہیں، اس واقعہ میں سکیورٹی فورسز کے 11 جوانوں نے جام شہادت نوش کیا، تین واقعات میں وطن عزیز کا دفاع کرتے ہوئے 42 شہادتیں ہوئی ہیں جبکہ 54 دہشت گرد مارے جا چکے ہیں۔
ترجمان پاک فوج نے کہا کہ پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کے دشمن دہشتگردی کے ان واقعات میں ملوث ہیں، متعدد بار کہہ چکے ہیں افغان سرزمین پاکستان مخالف کارروائیوں کے لیے استعمال ہو رہی ہے، دہشتگردی کی ان کارروائیوں میں افغان طالبان رجیم کی پشت پناہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: زیارت میں مسلح افراد کا پولیس چوکی پر حملہ، 9 اہلکار شہید
ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ پاکستان میں دہشت گردی کی یہ کارروائیاں بھارت کروا رہا ہے، بھارت کو پاکستان کی خوشحالی اور استحکام برداشت نہیں ہے، بلوچستان کی ترقی پاکستان کی ترقی ہے، ہم دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر حد تک پیچھا کریں گے، دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کے خاتمے تک کارروائیاں جاری رہیں گی۔
ترجمان پاک فوج نے مزید کہا کہ ریاست پاکستان کا مؤقف واضح اور دو ٹوک ہے، فتنہ الخوارج کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے، دنیا کی کوئی طاقت پاکستان کو نیچا نہیں دکھا سکتی ، معصوم شہریوں اور بہادر جوانوں کو نشانہ بنانے والوں کو کوئی رعایت نہیں دیں گے، ہم حق پر ہیں اور اس جنگ میں انشاء اللہ ہم ضرور کامیاب ہوں گے۔