موسمیاتی تبدیلی: اقوامِ متحدہ کی رپورٹ ایک سنجیدہ انتباہ
ایک طرف گرین ہاؤس گیسوں کا عالمی اخراج میں حصہ ایک فیصد تو دوسری طرف شدید گرمی، غیر معمولی بارشیں، تباہ کن سیلاب، خشک سالی، پانی کی قلت اور گلیشیرز کا تیزی سے پگھلنا ہماری روزمرہ زندگی کا حصہ بنتا جا رہا ہے۔
اقوامِ متحدہ کی پاکستان سالانہ رپورٹ 2025 کے مطابق موسمیاتی تبدیلی اب صرف ماحولیات کا مسئلہ نہیں رہی بلکہ یہ پاکستان کی معیشت، زراعت، صحت، پانی، خوراک اور مستقبل کی ترقی کے لیے ایک بڑا خطرہ بنتی جارہی ہے، اگر بروقت اور مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والے برسوں میں اس کے اثرات مزید سنگین ہو سکتے ہیں۔
پاکستان کا شمار ان چند ممالک میں ہوتا ہے جہاں دنیا کے سب سے زیادہ گلیشیرز موجود ہیں، یہ گلیشیر لاکھوں لوگوں کے لیے پانی کا اہم ذریعہ ہیں لیکن بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کی وجہ سے یہ تیزی سے پگھل رہے ہیں جس کے نتیجے میں گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے اور اچانک آنے والے سیلاب کا خطرہ بڑھ رہا ہے۔
شمالی علاقوں میں رہنے والے ہزاروں خاندان ہر سال اس خطرے کے سائے میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، اقوامِ متحدہ نے حکومتِ پاکستان کے تعاون سے ایسے علاقوں میں جدید ارلی وارننگ سسٹم نصب کیے ہیں تاکہ ممکنہ آفات سے پہلے لوگوں کو خبردار کیا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں: جولائی تا ستمبر کے دوران موسم کیسا رہے گا؟ اہم پیشگوئی
یہ ایک مثبت پیش رفت ضرور ہے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا صرف وارننگ سسٹم موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے خطرات کا مقابلہ کر سکتے ہیں؟
پاکستان کی معیشت کا بڑا حصہ زراعت سے وابستہ ہے مگر موسمیاتی تبدیلی نے اس شعبے کو بھی شدید متاثر کیا، کہیں بارشیں وقت سے پہلے ہو رہی ہیں کہیں بالکل نہیں ہوتیں اور کہیں چند گھنٹوں کی بارش مہینوں کی محنت کو بہا لے جاتی ہے۔
کسان غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں جبکہ خوراک کی پیداوار بھی متاثر ہو رہی ہے، اگر یہی حالات برقرار رہے تو مستقبل میں غذائی تحفظ ایک بڑا قومی مسئلہ بن سکتا ہے۔
فضائی آلودگی بھی پاکستان کے بڑے شہروں کا مستقل مسئلہ بن چکی ہے، ہر سال سموگ کی وجہ سے لاکھوں افراد صحت کے مسائل کا شکار ہوتے ہیں، بچوں، بزرگوں اور دمے کے مریضوں کے لیے یہ صورتحال خاص طور پر خطرناک ہوتی ہے۔
صاف فضا ہر شہری کا بنیادی حق ہے لیکن اس حق کو یقینی بنانے کے لیے صنعتی آلودگی پر قابو پانے، صاف ایندھن کے استعمال اور مؤثر شہری منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔
اقوامِ متحدہ کی رپورٹ میں جنگلات، حیاتیاتی تنوع اور قدرتی وسائل کے تحفظ پر بھی زور دیا گیا ہے، درخت صرف خوبصورتی کے لیے نہیں بلکہ موسمیاتی تبدیلی کے خلاف ایک مضبوط دفاع بھی ہیں۔
یہ بھی دیکھیں: اسلام آباد سمیت ملک کے مختلف شہروں میں زلزلے کے جھٹکے
افسوس کی بات یہ ہے کہ پاکستان میں جنگلات کا رقبہ اب بھی عالمی معیار سے کم ہے، شجرکاری مہمات اس وقت تک کامیاب نہیں ہو سکتیں جب تک لگائے گئے درختوں کی حفاظت کو بھی یقینی نہ بنایا جائے۔
حکومت نے قابلِ تجدید توانائی، ماحول دوست ترقی اور موسمیاتی منصوبوں کے حوالے سے کئی اقدامات کیے ہیں جبکہ اقوامِ متحدہ بھی مختلف منصوبوں میں پاکستان کی معاونت کر رہی ہے۔
تاہم اصل کامیابی اس وقت حاصل ہوگی جب یہ اقدامات صرف سرکاری فائلوں تک محدود نہ رہیں بلکہ ان کے اثرات عام شہری تک بھی پہنچیں۔