علی امین گنڈاپور نے آفریدی سرکار کو آڑے ہاتھوں لے لیا
خیبر پختونخوا اسمبلی میں بجٹ پر بحث کے دوران سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور نے آفریدی سرکار کی پالیسیوں اور ترقیاتی ترجیحات پر تنقیدکرتے ہوئےکہا کہ صوبےکے عوام کے مسائل حل نہ ہونا ہماری اجتماعی نااہلی کانتیجہ ہے۔
علی امین گنڈاپور کا کہنا تھا کہ کہ اسمبلی ایک قانون ساز ادارہ ہے، مگر قانون سازی کے ثمرات عام آدمی تک منتقل نہیں ہو رہے، انسانی حقوق کا تحفظ ہماری اولین ترجیح دی جانی چاہیے۔
سابق وزیراعلیٰ نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کو تمام قانونی حقوق فراہم کیے جائیں، جن میں ٹی وی اور اخبارات تک رسائی بھی شامل ہے اگر قانون اس کی اجازت دیتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ قوموں کی ترقی کا انحصار انسانوں پر سرمایہ کاری میں ہے، حکومت کو مضبوط معیشت، مؤثر نظام انصاف اور انسانی ترقی پر وسائل خرچ کرنے چاہئیں، اگر عوامی مسائل حل نہ ہوں تو حکومت اور منتخب نمائندوں اس کے ذمہ دار ہیں۔
علی امین گنڈاپور نے کہا کہ خیبر پختونخوا کو نیٹ ہائیڈل پرافٹ (این ایچ پی) اور این ایف سی ایوارڈ میں اپنا مکمل آئینی حصہ ملنا چاہیے، قبائلی اضلاع کے انضمام کے بعد صوبے کے حصے میں کمی و ناانصافی ہے اور جس سے عدم اعتماد کی فضا پیدا ہوتی ہے۔
سابق وزیراعلیٰ نے اپوزیشن لیڈر کے مؤقف کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ جاری منصوبوں کو ادھورا چھوڑ کر نئے منصوبے شروع کرنا نقصان کے سوا کچھ نہیں، عوام تختیوں اور افتتاحی تقریبات سے متاثر نہیں ہوتے بلکہ وہ اسپتالوں میں علاج، اسکولوں میں تعلیم اور دیگر بنیادی سہولیات میں بہتر ی کودیکھتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: گلگت بلتستان میں حکومت سازی کا فارمولا طے پا گیا
انہوں نے بجٹ میں ترقیاتی منصوبوں کے لیے مختص فنڈز پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ متعدد منصوبوں کے لیے رکھی گئی رقوم ناکافی ہیں، ہزارہ پیکیج کے لیے 200 ارب روپے کا اعلان کیا گیا لیکن کے باوجود صرف 4 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ عوام خود بجٹ دستاویزات کا جائزہ لیں اور دیکھیں کہ کن منصوبوں کے لیے حقیقت میں کتنی رقم رکھی گئی ہے، صرف اعلانات اور شکریےکافی نہیں بلکہ مختص وسائل اور عملی پیش رفت کو بھی مدنظر رکھنا چاہیے۔
علی امین گنڈاپور کا کہنا تھا کہ متعدد ترقیاتی منصوبوں کی رفتار اتنی سست ہے کہ موجودہ فنڈنگ کے ساتھ انہیں مکمل ہونے میں دہائیاں لگ جائیں گی۔