مٹی کے تیل کی فی لیٹر قیمت میں 48 روپے 29 پیسے کمی
نوٹیفکیشن کے مطابق مٹی کے تیل کی فی لیٹر قیمت میں 48 روپے 29 پیسے کمی کی گئی ہے۔ مٹی کے تیل کی نئی قیمت 233 روپے 90 پیسےفی لیٹر مقرر ہوگئی ہے۔ قیمت میں کمی کا اطلاق آج سے کیا گیا ہے۔
پہلے مٹی کے تیل کی قیمت 282 روپے 19پیسے فی لیٹر تھی۔
واضح رہے کہ پیٹرول کی قیمت میں 74 روپے اور ڈیزل کی قیمت میں 67 روپے کمی کی گئی ہے۔
وزیرِ اعظم شہباز شریف نے پاکستان کی ثالثی کی بدولت خطے و عالمی امن کے قیام کے بعد تیل کی قیمتوں کے حوالے سے اہم بیان میں کہا کہ خطے میں معاشی صورتحال میں بہتری آنے اور تیل کی قیمتوں میں کمی کا فائدہ فوری طور پر عوام کی جانب منتقل کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جو وعدہ قوم سے کیا تھا الحمدللہ وہ پورا کرنے جا رہے ہیں، پیٹرول کی قیمت میں 74 روپے اور ڈیزل کی قیمت میں 67 روپے فی لٹر کمی کی جارہی ہے،اس طرح پٹرول کی فی لٹر قیمت 373 روپے سے کم ہو کر 299 روپے اور اور ڈیزل کی فی لیٹر قیمت 378 روپے سے کم ہو کر 311 روپے پر آ جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں: حکومت کا پیٹرول 74 اور ڈیزل 67 روپے سستا کرنے کا فیصلہ
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ عوام کی مشکلات کا بخوبی اندازہ ہے، آپ نے مشکل صورتحال صبر و تحمل کا بے مثال مظاہرہ کیا، ان مشکل حالات میں حکومت کا ساتھ دینے پر ہم عوام کے تہہ دل سے مشکور ہیں، اس بحران کے آغاز سے ہی ہم نے اپنے وسائل سے تیل کی قیمتوں میں جس قدر ہو سکا کمی لانے کی کوشش کی۔
شہبا ز شریف نے کہا کہ وفاقی حکومت نے ترقیاتی بجٹ سے اور کفایت شعاری سے کی گئی بچت کے ذریعے 129 ارب استعمال کرکے ملک
بھر کے عوام کو تیل کی قیمتوں میں بے پناہ اضافے سے ممکنہ حد تک ریلیف فراہم کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ خطے کی معاشی صورتحال کے دوران جب کچھ ممالک میں فیول راشننگ جیسے اقدامات لیے جا رہے تھے، حکومت پاکستان کی بہتر منصوبہ کی بدولت توانائی کا بحران نہیں آیا، مؤثر اقدامات کی بدولت ، نہ کوئی لائن لگی، نہ لمبی قطاریں لگیں اور نہ ہی عوام کو کسی قسم کی پیٹرولیم مصنوعات کی کمی کا سامنا کرنا پڑا۔
انہوں نے کہا کہ ملکی معیشت کو مستحکم رکھنے کے لیے وفاق اور صوبوں نے مکمل تعاون کیا جس کے لیے میں وزرائے اعلیٰ کا شکر گزار ہوں، جس قدر ممکن ہوا عوام کو عالمی مہنگائی کی لہر سے محفوظ رکھنے کیلئے اقدامات اٹھائے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں جو کمی آئے گی وہ من و عن عوام کو منتقل کر رہے ہیں، معاشی استحکام برقرار رکھنے اور مہنگائی میں مزید کمی کے لیے مؤثر اقدامات جاری رکھیں گے۔