حضرت عمر ؓ کی کہانی ، ہر بچے کو ضرور سنائیں
راستے میں اسے ایک غلام دکھائی دیا جو گدھے پر سوار تھا۔ وہ شخص غلام کے قریب آیا اور نہایت سادگی سے کہنے لگا:
”بھائی! گرمی بہت زیادہ ہے، کیا تم مجھے اپنے پیچھے بٹھا لو گے“؟
غلام نے اس شخص کو غور سے دیکھا تو فوراً پہچان گیا۔ اس کے دل میں ادب و احترام کی کیفیت پیدا ہوئی۔ وہ جلدی سے گدھے سے نیچے اتر آیا اور عرض کرنے لگا:
”آپ سوار ہو جائیے، میں پیدل چلتا ہوں“۔
مگر اس شخص نے نرمی سے کہا:
”نہیں، تم سوار ہو جاؤ، میں تمہارے پیچھے بیٹھ جاؤں گا“۔
غلام نے پھر ادب سے کہا:
”نہیں، آپ جیسے بزرگ کے لیے یہی بہتر ہے کہ آپ سوار ہوں اور میں پیدل چلوں“۔
مگر وہ شخص اپنی بات پر قائم رہا۔ آخرکار غلام دوبارہ گدھے پر بیٹھ گیا اور وہ عظیم شخص اس کے پیچھے سوار ہو گیا۔
جب دونوں مدینہ منورہ کی حدود میں داخل ہوئے تو لوگ حیرت سے دیکھنے لگے۔ کسی کے چہرے پر تعجب تھا، کسی کی زبان پر خاموشی تھی، اور سب کے دل میں ایک ہی سوال تھا کہ یہ کون سی عظیم ہستی ہے جو ایک غلام کے پیچھے بیٹھ کر شہر میں داخل ہو رہی ہے؟
بچو! یہ کوئی عام شخص نہیں تھے۔ یہ مسلمانوں کے دوسرے خلیفہ، امیر المؤمنین حضرت عمر فاروق اعظم ؓ تھے۔
وہ عمر ؓ جن کے نام سے بڑے بڑے بادشاہوں کے دل کانپتے تھے۔ وہ عمر ؓ جن کے دور میں اسلام دور دور تک پھیلا۔ وہ عمر ؓ جن کے زمانے میں بہت سے شہر فتح ہوئے اور بے شمار مساجد تعمیر ہوئیں۔ مگر اتنی عظمت کے باوجود ان کے دل میں غرور نہیں تھا۔ وہ عاجزی، سادگی اور انصاف کے روشن چراغ تھے۔
حضرت عمر ؓ کی کنیت ابو حفص تھی اور آپ کا لقب فاروق اعظم تھا۔ فاروق کا مطلب ہے حق اور باطل میں فرق کرنے والا۔ آپ ؓ بہت بہادر، مضبوط جسم والے، دراز قد اور بارعب شخصیت کے مالک تھے۔ آپ کی داڑھی مبارک گھنی تھی اور چہرے پر وقار تھا۔
اسلام قبول کرنے سے پہلے بھی آپ قریش کے معزز لوگوں میں شمار ہوتے تھے۔ لوگ آپ کی رائے کو اہم سمجھتے تھے۔ آپ بہادر بھی تھے اور فیصلہ کرنے کی طاقت بھی رکھتے تھے۔ پھر جب اللہ تعالیٰ نے آپ کے دل کو اسلام کے نور سے روشن کیا تو مسلمانوں کو بہت خوشی ہوئی۔ آپ کے ایمان لانے سے مسلمانوں کو حوصلہ ملا اور کفار کو محسوس ہوا کہ اب مسلمانوں کی طاقت بڑھ گئی ہے۔
حضرت عمر ؓ رسول اللہ ﷺکے سچے عاشق اور وفادار ساتھی تھے۔ آپ ہر مشکل وقت میں اسلام کے ساتھ کھڑے رہے۔ غزوات میں شریک ہوئے، دین کی حفاظت کی، اور رسول اللہ ﷺاور حضرت ابو بکر صدیق ؓ کے مشیر اور مددگار بنے۔
لیکن بچو! حضرت عمر ؓ کی اصل عظمت صرف بہادری میں نہیں تھی۔ اصل عظمت یہ تھی کہ آپ اللہ سے بہت ڈرتے تھے، انصاف کو بہت پسند کرتے تھے، اور اپنے آپ کو عام مسلمانوں سے بڑا نہیں سمجھتے تھے۔
آپ ؓ کی زندگی بہت سادہ تھی۔ سفر میں ہوں یا گھر میں، آرام کی ضرورت ہوتی تو زمین پر چادر بچھا کر لیٹ جاتے۔ کبھی کسی درخت کے نیچے چادر ڈال کر سایہ بنا لیتے۔ ایک مرتبہ آپ نے خطبہ دیا تو آپ کے کپڑے پر بارہ پیوند لگے ہوئے تھے۔ سوچو بچو! ایک بہت بڑی حکومت کا حکمران، مگر لباس اتنا سادہ کہ اس پر پیوند لگے ہوئے تھے۔
ایک بار حضرت عمر ؓ اپنے کندھے پر پانی کا مشکیزہ اٹھائے جا رہے تھے۔ کسی نے ادب سے کہا:
”اے امیر المؤمنین! یہ کام آپ کے شایانِ شان نہیں ہے“۔
آپ ؓ نے فرمایا:
”میرے پاس لوگوں کے وفد آتے ہیں، کہیں میرے دل میں فخر نہ آ جائے، اس لیے میں چاہتا ہوں کہ اپنے نفس کو عاجزی سکھاؤں“۔
پھر آپ ایک صحابیہ ؓا کے گھر کے قریب پہنچے اور ان کے برتن پانی سے بھر دیے۔ یہ تھا ایک عظیم حکمران کا دل! نہ غرور، نہ تکبر، نہ بڑائی کا شوق۔
حضرت عمر ؓ بچوں سے بھی دعا کروایا کرتے تھے۔ آپ فرماتے:
”دعا کرو کہ عمر کی بخشش ہو جائے“۔
سوچو بچو! اتنے بڑے صحابی، اتنے عظیم خلیفہ، مگر اللہ کے سامنے کتنے عاجز تھے۔ آپ کی زبان پر اکثر ”اللہ اکبر“جاری رہتا تھا۔ عبادت سے محبت تھی، روزوں کا اہتمام تھا، اور نماز کو سب کاموں سے زیادہ اہم سمجھتے تھے۔
آپ ؓ نے اپنے گورنروں کو لکھا کہ میرے نزدیک تمہارے کاموں میں سب سے اہم کام نماز ہے۔ جس نے نماز کی حفاظت کی، اس نے اپنا دین محفوظ کر لیا، اور جس نے نماز کو ضائع کیا، وہ دوسرے کاموں کو بھی ضائع کر دے گا۔
حضرت عمر ؓ کا انصاف بھی بے مثال تھا۔ وہ کسی کے ساتھ ظلم پسند نہیں کرتے تھے، چاہے وہ عام آدمی ہو یا ان کا اپنا بیٹا۔
ایک دن آپ نے بازار میں ایک بہت موٹا تازہ اونٹ دیکھا۔ پوچھا:
”یہ اونٹ کس کا ہے“؟
لوگوں نے بتایا:
”یہ آپ کے بیٹے کا ہے“۔
آپ نے فوراً اپنے بیٹے کو بلایا اور پوچھا:
”یہ اونٹ اتنا موٹا کیسے ہو گیا“؟
انہوں نے عرض کیا:
”یہ سرکاری چراگاہ میں چرتا رہا، اس لیے موٹا ہو گیا“۔
حضرت عمر ؓ نے فوراً حکم دیا کہ اس اونٹ کو بیچ دو۔ جتنی عام قیمت بنتی ہے وہ اپنے پاس رکھ لو، اور جو اضافی رقم سرکاری چراگاہ کی وجہ سے بڑھی ہے، وہ بیت المال میں جمع کرا دو۔
بچو! ذرا سوچو، اگر کوئی دوسرا شخص ہوتا تو شاید اپنے بیٹے کو رعایت دے دیتا، مگر حضرت عمر ؓ کے نزدیک انصاف سب کے لیے برابر تھا۔ وہ اپنے گھر والوں پر بھی وہی قانون نافذ کرتے تھے جو دوسروں پر کرتے تھے۔
آپ ؓ جب کسی کو کسی علاقے کا حاکم بناتے تو پہلے اس کے مال و اسباب کی فہرست لکھوا لیتے۔ بعد میں اگر اس کے مال میں بے وجہ اضافہ ہوتا اور وہ درست وجہ نہ بتا پاتا تو حضرت عمر ؓ زائد مال بیت المال میں جمع کرا دیتے۔ آپ چاہتے تھے کہ حکمران امانت دار رہیں، کیونکہ آپ فرمایا کرتے تھے کہ لوگ تب تک سیدھے راستے پر رہتے ہیں جب تک ان کے رہنما سیدھے راستے پر رہتے ہیں۔
سن 13 ہجری میں حضرت عمر ؓ خلیفہ بنے۔ آپ تقریباً دس سال چھ ماہ مسلمانوں کے امیر رہے۔ یہ دور عدل، نظم، سادگی، عبادت اور خدمت کا دور تھا۔ آپ راتوں کو جاگ کر لوگوں کی خبر گیری کرتے، غریبوں کی مدد کرتے، مظلوموں کی فریاد سنتے اور ہمیشہ یہ سوچتے کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے سامنے مجھے جواب دینا ہے۔
پھر ایک دن ایسا آیا جب امت کا یہ عظیم خلیفہ فجر کی نماز کے لیے کھڑا ہوا۔ 26 ذوالحجہ کی صبح ایک بدبخت مجوسی غلام ابو لؤلؤ فیروز نے آپ پر حملہ کیا۔ آپ شدید زخمی ہو گئے۔ زخمی حالت میں بھی آپ نے نماز کی فکر کی اور حضرت عبد الرحمن بن عوف ؓ کو نماز پڑھانے کا حکم دیا۔
جب آپ کو گھر لایا گیا تو زخموں کی شدت سے آپ پر غشی طاری ہو چکی تھی۔ مگر جیسے ہی ہوش آیا، آپ کو سب سے پہلے نماز یاد آئی۔ آپ نے وضو کیا اور فجر کی نماز ادا کی۔ چند دن زخمی حالت میں گزارنے کے بعد آپ ؓ اپنے رب کے حضور حاضر ہو گئے۔
حضرت صہیب ؓ نے آپ کی نماز جنازہ پڑھائی۔ یکم محرم 24 ہجری کو آپ کو روضہ رسول ﷺمیں حضرت ابو بکر صدیق ؓ کے پہلو میں دفن کیا گیا۔ شہادت کے وقت آپ کی عمر مبارک 63 سال تھی۔
پیارے بچو! حضرت عمر ؓ کی یہ کہانی ہمیں بہت سے سبق دیتی ہے۔ سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ انسان جتنا بڑا ہو جائے، اسے عاجز رہنا چاہیے۔ طاقت ملے تو انصاف کرنا چاہیے۔ مال ملے تو امانت سمجھنا چاہیے۔ حکومت ملے تو خدمت کرنی چاہیے۔ اور ہر حال میں نماز، اللہ کا خوف، سچائی اور عدل کو اپنی زندگی کا حصہ بنانا چاہیے۔
حضرت عمر ؓ غلام کے پیچھے بیٹھ کر مدینہ میں داخل ہوئے، مگر حقیقت میں وہ عاجزی کے بلند مقام پر سوار تھے۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی ان کا نام عزت، انصاف، بہادری اور سادگی کی روشن مثال بن کر زندہ ہے۔
حوالہ جات: یہ کہانی اور اس میں بیان کردہ واقعات و معلومات تاریخ ابن عساکر، تاریخ الخلفاء، الدر المنثور، ریاض النضرہ، الزہد لاحمد، رسالہ قشیریہ، فتوح البلدان، طبقات ابن سعد، موطا امام مالک، فضائل دعا اور فیضانِ فاروقِ اعظم وغیرہ سے اخذ کی گئی ہیں
(تحریر و تحقیق)
محمد حسنین رضا
(اسلامی اسکالر، محقق، اور کالم نگار)