سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں اضافہ
بجٹ تقریر کے دوران کیے گئے اعلانات کے مطابق سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 7 فیصد اضافہ کیا گیا ہے، جبکہ کم از کم ماہانہ اجرت میں 10 فیصد اضافہ کرکے مزدور طبقے کو بھی ریلیف فراہم کیا گیا۔
حکومت کی جانب سے کیے گئے فیصلوں کو معاشی دباؤ کا شکار عوام کیلئے خوش آئند قرار دیا جا رہا ہے۔ بجٹ دستاویزات کے مطابق مختلف آمدنی والے طبقات کیلئے انکم ٹیکس کی شرح میں بھی نمایاں کمی کی گئی ہے۔
سالانہ 22 لاکھ سے 32 لاکھ روپے آمدن رکھنے والے افراد پر ٹیکس کی شرح 23 فیصد سے کم کرکے 20 فیصد کر دی گئی ہے، جس سے ہزاروں تنخواہ دار افراد کو فائدہ پہنچنے کی توقع ہے۔
اسی طرح سالانہ 32 لاکھ سے 41 لاکھ روپے کمانے والوں کیلئے ٹیکس کی شرح 30 فیصد سے کم کرکے 25 فیصد مقرر کر دی گئی ہے۔
مزید برآں سالانہ 56 لاکھ سے 70 لاکھ روپے آمدن رکھنے والے افراد پر ٹیکس کی شرح 35 فیصد سے کم کرکے 32 فیصد کر دی گئی ہے۔
بجٹ کی ایک اور اہم خصوصیت سپر ٹیکس کے حوالے سے حکومتی فیصلہ ہے، حکومت نے 6 مختلف سلیب پر عائد سپر ٹیکس مکمل طور پر ختم کرنے کا اعلان کیا ہے، جسے کاروباری برادری اور سرمایہ کاروں کیلئے ایک مثبت پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:بلاول بھٹو ن لیگ سے ناراض ہوگئے
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ تنخواہوں، پنشن اور ٹیکسوں میں یہ تبدیلیاں عوامی قوتِ خرید بہتر بنانے اور کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دینے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں، تاہم ان اقدامات کے حقیقی اثرات کا اندازہ آنے والے مہینوں میں ہو سکے گا۔