35 مطالبات تسلیم، پھر احتجاج کیوں؟ حکومت آزاد کشمیر کا سخت مؤقف
آزاد جموں و کشمیر حکومت کا کہنا ہے کہ 38 میں سے 35 مطالبات تسلیم کیے جانے اور متعدد نکات پر عملی پیش رفت کے باوجود سڑکوں پر احتجاج اور دباؤ کی سیاست عوامی مفاد کیخلاف ہے۔
آل پارٹیز کانفرنس کے اعلامیے کو آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی سے باقاعدہ توثیق حاصل ہے، جو ریاست میں عوامی نمائندگی کا سب سے بڑا اور آئینی فورم ہے، اسمبلی کے فیصلوں کو سڑکوں پر احتجاج کے ذریعے چیلنج کرنا جمہوری روایات کے منافی ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ حکومت نے مسائل کے حل کیلئے مذاکرات، ریلیف اور عملی اقدامات کا راستہ اختیار کیا۔ ان اقدامات کے تحت احتجاجی واقعات میں جاں بحق افراد کے ورثاء کو کروڑوں روپے کی مالی امداد فراہم کی گئی، زخمیوں کو معاوضے دیے گئے، گندم پر سبسڈی برقرار رکھی گئی، تعلیمی اداروں میں اوپن میرٹ متعارف کرایا گیا، جائیدادوں پر ٹیکسوں میں کمی کی گئی اور بعض قوانین کو عوامی توقعات کے مطابق ہم آہنگ بنایا گیا۔
حکومت نے واضح کیا کہ باقی ماندہ تین مطالبات، جن میں ٹیکس و آمدن کا نظام، مہاجر نشستوں سے متعلق امور اور سرکاری مراعات شامل ہیں، آئینی اور پالیسی نوعیت کے معاملات ہیں جن کا حل صرف قانونی اور جمہوری عمل کے ذریعے ممکن ہے۔
حکومت نے الزام عائد کیا کہ جے اے اے سی نے مذاکرات میں لچک دکھانے کے بجائے محاذ آرائی کی راہ اپنائی، 9 جون کو انتخابی عمل میں ممکنہ رکاوٹ ڈالنے کی کوششوں کو بھی جمہوری اقدار کیخلاف قرار دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں:مومنہ اقبال کے ساتھ کب اور کیسے تعلق قائم ہوا؟ ثاقب چدھڑ نے بتا دیا
حکومت نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ بندشوں اور احتجاجی دباؤ کے بجائے ووٹ، مکالمے اور آئینی راستے پر اعتماد کریں، جبکہ امن و امان خراب کرنے والوں کیخلاف قانون کے مطابق کارروائی کا عندیہ بھی دیا گیا ہے۔