نور مقدم قتل کیس، مجرم ظاہر جعفرکی سزائےموت برقرار

سپریم کورٹ آف پاکستان نے نور مقدم قتل کیس کے مرکزی مجرم ظاہر جعفرکی سزائےموت کے خلاف نظرثانی درخواست خارج کر دی۔
فائل فوٹو
Updated 17 گھنٹے قبل | Published June, 4 2026 | Muhammad Bilal
اسلام آباد: (سنو نیوز) سپریم کورٹ آف پاکستان نے نور مقدم قتل کیس کے مرکزی مجرم ظاہر جعفرکی سزائےموت کے خلاف نظرثانی درخواست خارج کر دی۔

جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بنچ نے مختصر مجرم کی سزا ئے موت کے خلاف نظرثانی درخواست پر فیصلہ سنایا، سپریم کورٹ نے مجرم ظاہر جعفر کی سزائے موت برقرار رکھی۔

قبل ازیں مرکزی مجرم ظاہر جعفر ذاکر کے وکیل خواجہ حارث نے دوران سماعت دلائل دیتے ہوئے کہا کہ سب سے پہلے تسلیم کرتا ہوں مقتولہ نور مقدم کیساتھ ظلم ہوا، میں مقتولہ کے خاندان کے سامنے معذرت خواہ ہوں۔

خواجہ حارث کا کہنا تھا کہ میرے دلائل کا مرکز وقوعہ کے وقت مجرم کی دماغی حالت ہے، تسلیم کرتا ہوں میرا مؤکل وقوعے کے وقت موجود تھا، یہ نہیں کہوں گا میرے مؤکل نے قتل نہیں کیا۔

وکیل ظاہر جعفر نے کہا کہ وقوعے اور ٹرائل کے وقت میرے مؤکل کی دماغی حالت ٹھیک نہیں تھی، ٹرائل کے دوران جیل میں بھی مجرم کو ادویات دی جاتی رہی ہیں، ریکارڈ موجود ہے کہ ظاہر جعفر بائی پولر ڈس آرڈر، شیزوفرینیا اور ڈپریشن کی ادویات لیتا تھا۔

مجرم کے وکیل کا کہنا تھا کہ یہ وہ بیماریاں ہیں جس میں مریض جارحانہ مزاج میں آجاتا ہے۔

جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ ایسا ریکارڈ دکھائیں مجرم کا علاج کب شروع ہوا،وقوعے کے وقت علاج چل رہا تھا یا نہیں۔

یہ بھی پڑھیں: نورمقدم کیس، ظاہر جعفر کی سزائے موت برقرار، تفصیلی فیصلہ جاری

جسٹس صلاح الدین پہنور نے کہا کہ یہ بھی ثابت کریں مجرم کب اس بیماری کا شکار ہوا، کس ڈاکٹر نے علاج کیا، ظاہر جعفر کے دوست بھی ہونگے، مجرم کی سکول یا کالج، یونیورسٹی کی پوری میڈیکل ہسٹری ہوگی۔

خواجہ حارث کا کہنا تھا کہ میری استدعا ہے ماضی کے فیصلوں کی روشنی میں عدالت نظرثانی میں میرٹس دیکھ سکتی ہے، سپریم کورٹ اپنے فیصلوں میں دوبارہ ٹرائل کا حکم دے چکی ہے، میں دوبارہ ٹرائل کی نہیں بلکہ سزا میں رعایت کی استدعا کرتا ہوں۔