بجٹ: تنخواہوں میں 10 اور پنشن میں 7 فیصد اضافے کی تجویز
ذرائع کے مطابق وزارت خزانہ اور ایف بی آر کے دفاتر ہفتہ اور اتوار کو بھی کھلے رہیں گے ، آئندہ مالی سال 27-2026 کے بجٹ کو فائنل کرنے کیلئے کام حتمی مراحلے میں داخل ہو چکا ہے۔
ذرائع کا بتانا ہے کہ آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ کا حجم 19 کھرب روپے تک ہو سکتا ہے ، آئندہ مالی سال کیلئے معاشی شرح نمو کا ہدف 4.1 فیصد رکھنے کی تجویز ہے، ایف بی آر کیلئے ٹیکس وصولی کا ہدف ساڑھے 15 ہزار ارب روپے سے زائد رکھے جانے کا امکان ہے۔
وزارت خزانہ ذرائع کا کہنا ہے کہ آئندہ مالی سال کے دوران مہنگائی 8.4 فیصد رہنے کا تخمینہ ہے ، پٹرولیم لیوی کا ہدف ایک ہزار 727 ارب روپے کی تجویز ہے ، آئندہ مالی سال کا وفاقی پی ایس ڈی پی کا حجم 1100 ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے۔
اسی طرح قرضوں پر سود ادائیگی کیلئے 7 ہزار 824 ارب رکھنے کی تجویز ہے ، دفاعی شعبے کیلئے 2 ہزار 665 ارب رکھنے کی تجویز ہے ، نان ٹیکس ریونیو کا ہدف 2768 ارب روپے متوقع ہے، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 10 فیصد جبکہ پنشنرز کو مہنگائی کے تناسب سے 7 فیصد تک ریلیف دینے کی تجویز ہے۔
ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف کو آئندہ مالی سال پرائمری سرپلس 2 ہزار ارب روپے تک مختص کرنے کی یقین دہانی کروائی گئی ہے، حکومتی اخراجات میں کمی کیلئے وفاقی اداروں کی رائٹ سائزنگ کی جائے گی، پاور سیکٹر کی حکومتی کمپنیوں کی نجکاری کو تیز کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: تنخواہ دار طبقے کے لیے انکم ٹیکس میں کمی کی تجویز
ایف بی آر ذرائع نے بتایا ہے کہ نان فائلرز پر مزید سختی کی جائے گی اور ان کے ٹیکس میں اضافہ کیا جائے گا، صنعتی اور توانائی کے شعبے میں نجی سرمایہ کاری بڑھانے کیلئے نئے اقدامات زیر غور ہیں،تنخواہ دار طبقے پر انکم ٹیکس کا بوجھ کم کرنے کا امکان ہے۔
ذرائع ایف بی آر کے مطابق تاجروں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کیلئے نیا سادہ ٹیکس گوشوارہ فارم تیار کر لیا گیا ہے۔