عمران خان سے ملاقات کیلئے دیا گیا دھرنا رات گئے ختم

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی
وزیراعلی خیبر پختونخوا سہیل آفریدی اور کارکنوں کو 26 نمبر چونگی پر روکا گیا/ فائل فوٹو
Updated | Published May, 20 2026 |
(ویب ڈیسک) عمران خان سے ملاقات کے لیے آنے والے وزیراعلی خیبر پختونخوا سہیل آفریدی اور کارکنوں کو 26 نمبر چونگی پر روک لیا گیا جس پر اسلام آباد پولیس سے تلخ کلامی ہوگئی، آگے جانے کی اجازت نہ ملنے پر سہیل آفریدی نے دھرنا دے دیا جو رات گئے ختم کر دیا گیا جبکہ ایم پی اے انور تاج کو حراست میں لیا گیا۔

اسلام آباد پولیس سے تلخ جملوں کے تبادلے کے دوران سہیل آفریدی نے کہا کہ تم پاکستان کو توڑنا چاہ رہے ہو، تم ساڑھے 4 کروڑ عوام کے نمائندے کو کیوں روک رہے ہو۔ وزیراعلیٰ نے پولیس افسر سے مطالبہ کیا کہ راستہ کھولو! وزیراعلیٰ کے ساتھ پی ٹی آئی کارکنوں نے شیم شیم کے نعرے لگائے۔

سہیل آفریدی نے 26 نمبر چونگی پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم آج بھی پرامن طریقے سے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے لئے آئے ہیں، کارکنوں نے ہر موقع پر تحمل کا مظاہرہ کیا، ایک صوبے کے چیف ایگز یکٹو اور پوری کابینہ کوراستے میں روکنا امتیازی سلوک ہے، ایک صوبے کے وزیر اعلیٰ کا را ستہ روک کر حکومت کیا پیغام دینا چاہتی ہے، کبھی گندم بند کرتے ہیں کبھی راستے، یہ ایک صوبے کو کیوں الگ تھلگ کرنا چاہتے ہیں، خیبر پختوخوا کے عوام کیا گئے گزرے ہیں؟، جو ان کے ساتھ ملک کے دیگر حصوں اور کشمیر میں کیا گیا اور جو آج ہو رہا ہے یہ مزید نہیں چلے گا۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر انہوں (حکومت) نے آج ہوش کے ناخن نہ لیے تو جو ہم نہیں کرنا چاہ رہے ہم وہی کرینگے ۔ بانی پی ٹی آئی کی فیملی، وکلا، ذاتی ڈاکٹرزسے ملاقاتیں بنیادی انسانی حقوق کاتقاضا ہیں۔ انہوں نے بانی پی ٹی آئی کی آنکھ کے مسئلے کو سنجیدہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہیں اپنی مرضی کے ہسپتال میں علاج کیلئے منتقل کیاجائے ۔ ہمارا کوئی غیر قانونی یاغیر آئینی مطالبہ نہیں صرف بنیادی انسانی حقوق کی بات کررہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ریلیف اور ترقی کے باوجود جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کا احتجاج

پولیس نے 26 نمبر چونگی پر کنٹینرز لگا د ئیے، پولیس کے دستے اور رینجرز کی ٹیمیں 26 نمبر چونگی پر موجود رہیں ، رکاوٹیں کھڑی ہونے سے ایئرپورٹ سے آنے والے شہریوں کو مشکلات کا سامنا رہا۔ ٹریفک بہا ؤمیں مسلسل خلل سے موٹروے پر گاڑیوں کی قطاریں لگنا شروع ہوگئیں تو شہریوں نے 26 نمبر چونگی کے پاس اپنی مدد آپ کے تحت رکاوٹ ہٹا کر راستہ کھول دیا جبکہ شام گئے بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی سے اڈیالہ جیل میں ملاقات کا وقت ختم ہوگیا اوران سے ملاقات کے لئے کوئی فیملی ممبر اوررہنما اڈیالہ جیل نہیں پہنچا۔

دوسری جانب بانی پی ٹی آئی کے طبی معائنے کیلئے میڈیکل ٹیم اڈیالا جیل پہنچی اور بانی کا طبی معائنہ کیا گیا۔ میڈیکل ٹیم میں پروفیسر ندیم قریشی اور ڈاکٹر عارف خان شامل تھے۔
علاوہ ازیں پی ٹی آئی نے مہنگائی کیخلاف سیاسی قیدیوں کی رہائی کیلئے جمعہ سے ملک گیر احتجاجی تحریک کا اعلان کر دیا، پارلیمانی پارٹی اجلاس کے بعد مرکزی رہنمااسد قیصر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پوری جماعت اور پاکستان کے عوام کو بانی پی ٹی آئی عمران خان اور انکی اہلیہ بشری بی بی کی صحت کے حوالے سے شدید تشویش لاحق ہے۔

تحریک تحفظ آئین پاکستان کے کل کے سربراہی اجلاس میں ہونے والے فیصلوں کی پارلیمانی پارٹی نے متفقہ طور پر توثیق کر دی ہے۔ جمعہ کو ملک بھر میں مہنگائی کیخلاف ، بانی پی ٹی آئی عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ہسپتال منتقلی ، سیاسی قیدیوں کی رہائی اور بنیادی انسانی حقوق کی بحالی کے لیے احتجاج کیا جائے گا۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر پارلیمان میں اپوزیشن کے ساتھ یہی رویہ رہا تو حزب اختلاف ایوان کو نہیں چلنے دے گی۔ عمران خان اور بشریٰ بی بی کو جیل رولز کے مطابق فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا جائے، پارلیمانی لیڈر شاہد خٹک نے کہا کہ سائفر سے متعلق حقائق اب بین الاقوامی میڈیا کے ذریعے سامنے آ چکے ہیں اور اس سے پی ٹی آئی کا مؤقف درست ثابت ہوا ہے ۔ جمعہ کے روز عوام کی عدالت میں جائیں گے۔