پٹرولیم لیوی کی مد میں عوام سے کتنے پیسے وصول کئے؟
سرکاری دستاویزات کے مطابق رواں مالی سال کے ابتدائی 9 ماہ میں پیٹرولیم مصنوعات پر عائد لیوی کی مد میں مجموعی طور پر 12 کھرب 5 ارب 18 کروڑ روپے وصول کیے گئے۔ یہ رقم پیٹرول اور ڈیزل سمیت دیگر پیٹرولیم مصنوعات کے استعمال پر عوام سے حاصل کی گئی۔
دستاویزات کے مطابق صرف مارچ کے مہینے میں صارفین سے پیٹرولیم لیوی کی مد میں ایک کھرب 37 ارب روپے وصول کیے گئے۔ فروری میں یہ وصولی ایک کھرب 20 ارب روپے رہی جبکہ جنوری کے دوران عوام سے ایک کھرب 24 ارب روپے پیٹرولیم لیوی کی مد میں جمع کیے گئے۔
یہ بھی پڑھیں: عید سے قبل سرکاری ملازمین کیلئے بڑی سہولت کا اعلان
اعداد و شمار کے مطابق جولائی میں ایک کھرب 45 ارب روپے، اگست میں ایک کھرب 15 ارب روپے، ستمبر میں ایک کھرب 11 ارب روپے اور اکتوبر میں ایک کھرب 45 ارب روپے پیٹرولیم لیوی کی مد میں وصول کیے گئے۔ اسی طرح نومبر میں لیوی وصولی ایک کھرب 51 ارب روپے تک پہنچی جبکہ دسمبر میں یہ رقم ایک کھرب 57 ارب روپے ریکارڈ کی گئی۔
سرکاری دستاویزات میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ کلائمیٹ سپورٹ لیوی کی مد میں اب تک 35 ارب روپے جمع کیے جا چکے ہیں، جبکہ حکومت نے اس مد میں 51 ارب روپے وصول کرنے کا ہدف مقرر کر رکھا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ حکومت کلائمیٹ سپورٹ لیوی کے ہدف کے حصول کے لیے بھی مزید وصولیاں کرے گی۔
معاشی ماہرین کے مطابق پیٹرولیم لیوی اب حکومتی آمدن کا ایک اہم ذریعہ بن چکی ہے۔ حکومت بجٹ اہداف پورے کرنے اور مالی خسارہ کم کرنے کے لیے پیٹرولیم مصنوعات پر لیوی سے بڑی رقم حاصل کر رہی ہے، تاہم اس کا براہ راست بوجھ عوام پر پڑتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جب پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں بڑھتی ہیں تو اس کے اثرات صرف گاڑیوں کے ایندھن تک محدود نہیں رہتے بلکہ ٹرانسپورٹ کرایوں، اشیائے خور و نوش، زرعی لاگت اور صنعتی پیداوار پر بھی پڑتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں مہنگائی کا دباؤ مزید بڑھ جاتا ہے۔