عمران کا علاج ورنہ پارلیمنٹ نہیں چلنے دینگے: محمود خان اچکزئی
انہوں نے تجویز دی کہ نواز شریف سمیت تمام سیاسی قیادت مل بیٹھ کر کم از کم نکات پر اتفاق کرے تاکہ ملک کو بحران سے نکالا جا سکے۔ پاکستان کو کچھ ہوا تو ذمہ دار نواز شریف، آصف علی زرداری، مولانا فضل الرحمن اور بلاول بھٹو زرداری ہوں گے، حکومت نے ماحول درست نہ کیا تو پھر دما دم مست قلندر ہوگا۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ شہباز شریف کہنے کو تو وزیر اعظم ہیں مگر صرف ترامیم لانے کے لیے ہیں، پہلے ناجائز ترامیم کی گئیں اب ایک اور آئینی ترمیم کی تیاری کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی گفتگو قوم تک نہیں پہنچائی جا رہی حالانکہ حکومت اور اپوزیشن کے حقوق برابر ہیں، اٹھارہویں ترمیم کو دوبارہ غیر موثر بنایا جا رہا ہے اور اگر یہی طرز عمل جاری رہا تو پارلیمان ایک بار پھر ربڑ سٹیمپ پارلیمان کہلائے گی۔
یہ بھی پڑھیں: میاں نواز شریف کا سیاسی محاذ پر متحرک ہونے کا فیصلہ
انہوں نے بلاول بھٹو اور پیپلز پارٹی سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنا موثر کردار ادا کریں، پاکستان میں خون سستا پٹرول مہنگا ہوگیا، فضل الرحمان نے سوال اٹھایا کہ آبنائے ہرمز سب کے لیے بند ہے مگر تیل سب سے مہنگا پاکستان میں ہی کیوں ہے ؟ بھارت کے بھی جہاز رکے ہوئے ہیں مگر وہاں تو تیل مہنگا نہیں ہوا، باقی ملکوں میں تیل مہنگا نہیں ہوا۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ پیپلز پارٹی بتائے رفتہ رفتہ اٹھارہویں ترمیم رول بیک ہونے میں کیوں حصہ بن رہی ہے ؟ آج پارلیمان ربڑ سٹیمپ بنتی چلی جارہی ہے، اپوزیشن کھڑی ہے ڈٹ کر کھڑی رہے گی، میں اپوزیشن لیڈر سے درخواست کروں گا کہ ایوان سے واک آؤٹ کا اعلان کریں۔
تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا کہ خارجہ پالیسی، مہنگائی، دہشت گردی، ان کیمرہ اجلاس اور بانی چیئرمین پی ٹی آئی کی ملاقاتوں و علاج کے نکات اپوزیشن کی جانب سے اٹھائے گئے ہیں جن پر حکومت کو سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔
انہوں نے رول 17 کے تحت ڈپٹی سپیکر سے رولنگ دینے کا مطالبہ کیا تاکہ متعلقہ وزرا کل ایوان میں جواب دیں۔تاہم ڈپٹی سپیکر نے رولنگ دینے کے بجائے اجلاس آج صبح 11 بجے تک ملتوی کر دیا جس کے باعث اپوزیشن کا مشترکہ واک آؤٹ نہ ہو سکا۔
بعدازاں میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ کوئی صوبہ تب تک تقسیم نہیں ہو سکتا جب تک اس صوبے کی دو تہائی اکثریت نے ووٹ نہ دیا ہو۔