وفاقی درالحکومت میں ہونے والے اہم بین الاقوامی مذاکرات کے باعث ٹریفک پولیس نے جامع ٹریفک پلان جاری کر دیا ہے، جس کے تحت سیکیورٹی انتظامات کے پیش نظر شہر میں آمد و رفت کو محدود کیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق 11 اور 12 اپریل کو اسلام آباد میں ہیوی ٹریفک کے داخلے پر مکمل پابندی عائد ہوگی تاکہ غیر ملکی وفود کی آمد کے دوران سیکیورٹی کو یقینی بنایا جا سکے۔
ٹریفک پولیس نے شہریوں کو متبادل راستے اختیار کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا ہے کہ پشاور سے راولپنڈی آنے والے مسافر ٹیکسلا موٹر وے استعمال کریں جبکہ لاہور سے پشاور جانے والے افراد راوت، چک ہیلی اور چکری کے راستے اختیار کریں۔
یہ بھی پڑھیں: 'ایران مذاکرات کیلیے خیرسگالی کیساتھ آیا لیکن امریکا پر اعتماد نہیں'
اسی طرح جی-5، ایف-6 اور ایف-7 کے رہائشیوں کو مارگلہ روڈ جبکہ جی-6 اور جی-7 کے مکینوں کو نائنتھ ایونیو استعمال کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے، فیصل ایونیو سے زیرو پوائنٹ جانے والی ٹریفک کو بھی نائنتھ ایونیو کی طرف موڑا جائے گا۔
دیگر ہدایت کے مطابق بھارہ کہو سے راولپنڈی جانے والے افراد کورنگ روڈ، بنی گالا، لہتراڑ روڈ اور جی ٹی روڈ استعمال کریں جبکہ راولپنڈی سے اسلام آباد آنے والے شہری صدر کے راستے نائنتھ ایونیو اختیار کریں۔
حکام کا کہنا ہے کہ یہ انتظامات سکیورٹی تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے کیے گئے ہیں تاکہ ٹریفک کی روانی برقرار رہے اور شہریوں کو کم سے کم مشکلات کا سامنا کرنا پڑے۔