نادرا کی جانب سے جاری خصوصی ہدایت نامہ میں کہا گیا ہے کہ شناختی کارڈ کی میعاد ختم ہونے پر بینک اکاؤنٹس، موبائل سمز اور دیگر سہولیات متاثر ہو سکتی ہیں، ایسے شہری سرکاری و فلاحی پروگراموں سے محروم ہو سکتے ہیں،تاخیر سے تجدید پر جرمانہ ممکن ہے، تاہم نادرا فی الحال اس کا اطلاق نہیں کر رہا۔
حکام کے مطابق وہ شہری جن کے شناختی کارڈ کی میعاد ختم ہو چکی ہو، وہ مختلف سرکاری و فلاحی پروگرامز، مثلاً بینظیر انکم سپورٹ پروگرام، حکومتی سبسڈی اسکیموں مثلاً حالیہ اعلان کردہ فیول سبسڈی سکیم، نیز جائیداد اور گاڑیوں کی منتقلی جیسی سہولیات سے بھی مستفید نہیں ہو سکتے، جس کے نتیجے میں انہیں غیر ضروری مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
نادرا ریکارڈ کے مطابق کروڑوں شہریوں کے شناختی کارڈز اور دیگر دستاویزات کی میعاد ختم ہے ، نادرا کی جانب سے شہریوں کو ایس ایم ایس کے ذریعے تجدید کی یاد دہانی کرائی جاتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا نوٹیفکیشن جعلی قرار
نیشنل ڈیٹا بیس رجسٹریشن اتھارٹی کی جانب سے کہا گیا ہے کہ اٹھارہ سال عمر ہونے پر شہری فوری شناختی کارڈ بنوائیں، پی ٹی اے کی جانب سے موبائل سروس کے لئے فعال شناختی کارڈ لازمی ہے، شناختی کارڈ کی میعاد ختم ہونے کے بعد موبائل سمز بلاک ہو سکتی ہیں۔
نادرا کے مطابق 81 لاکھ سے زائد سمز ایکسپائرڈ شناختی کارڈز پر فعال ہیں جن کی فوری تجدید ضروری ہے، متوفی افراد کے نام پر رجسٹرڈ سمز کسی بھی وقت بند ہو سکتی ہیں، شہری متوفی رشتہ داروں کے نام پر موجود سمز اپنے نام پر منتقل کروائیں۔
نادرا ذرائع کا بتانا ہے کہ جون کے بعد تاخیر سے تجدید پر اضافی فیس اور جرمانے کا امکان ہے، شناختی کارڈ کی تجدید کے لئے نادرا مراکز، پاک آئی ڈی ایپ اور ای سہولت دستیاب ہے۔