عالمی رہنما جنگ بندی کیلئے پاکستان کے ثالثی کردار کے معترف
Pakistan mediation
فائل فوٹو
(ویب ڈیسک): عالمی رہنماؤں نے پاکستان کے جنگ بندی میں مؤثر کردار کو سراہتے ہوئے خصوصی طور پر پاکستان کا شکریہ ادا کیا۔

  امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کی ثالثی کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے بات چیت کے بعد اور ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو محفوظ بنانے کی یقین دہانی پر امریکا نے دو ہفتوں کے لیے ایران پر حملے روکنے پر اتفاق کیا۔

یہ ایک غیر معمولی بیان تھا جس نے ظاہر کیا کہ پاکستان کی سول اور عسکری قیادت پر امریکا کو اعتماد حاصل ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے بھی پاکستان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی قیادت نے خطے میں جنگ کے خاتمے کے لیے اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایران پر حملے بند کیے جائیں تو ایران بھی اپنی دفاعی کارروائیاں روک دے گا اور دو ہفتوں کے لیے آبنائے ہرمز سے محفوظ گزر ممکن بنایا جائے گا۔

وزیراعظم شہباز شریف نے اعلان کیا کہ ایران اور امریکا نے فوری جنگ بندی پر اتفاق کیا ہے اور انہوں نے دونوں ممالک کے وفود کو 10 اپریل 2026 کو اسلام آباد میں مزید مذاکرات کے لیے مدعو کیا تاکہ تمام تنازعات کا مستقل حل نکالا جا سکے۔

ملائیشیا کے وزیراعظم انور ابراہیم نے پاکستان کی سفارتکاری کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا میں امن کے قیام کے لیے اہم ہے۔

آسٹریلیا کے وزیراعظم انتھونی البانیز اور وزیر خارجہ پینی وونگ نے مشترکہ بیان میں پاکستان، ترکیہ اور مصر کی کوششوں کو سراہا۔

جرمن چانسلر فریڈرک مرز نے کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی کا خیر مقدم اور پاکستان کے بطور ثالث کردار کو سراہتے ہیں۔

چین کے سفیر جیانگ زائیدونگ  مشرقِ وسطیٰ اور خلیجی خطے میں امن اور سلامتی کے فروغ کے لیے پاکستان کے تعمیری کردارکے معترف

وزارت خارجہ چین نے بیان میں لکھا کہ چین امن کیلئے پاکستان کی فعال ثالثی کی کوششوں کی حمایت کرتا ہے۔

مزید برآں، قطر کی جانب سے بھی وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کےبطور ثالث کامیاب اور مؤثر کردار کو بھرپور انداز میں سراہا گیا ہے

سعودی وزارت خارجہ نے بھی امریکا ایران جنگ بندی میں وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی کوششوں میں سراہا ہے۔

واضح رہے کہ ا یرانی سفیر رضا امیری نے کہا کہ پاکستان کے بطور ثالث کردار کے بعد اس وقت ہم ایک اہم اور حساس مرحلے سے آگے بڑھ چکے ہیں۔

برطانوی سفیر جین میریٹ نے کہا کہ امن کیلئے پاکستان کےمؤثر اور نتیجہ خیز کردار کے ساتھ ساتھ کامیاب ڈپلومیسی پر بھر پور شکریہ ادا کرتےہیں۔

سابق اطالوی وزیراعظم  پاؤلو جینٹیلون نے کہا کہ امریکا ایران جنگ بندی میں بطور ثالث کردار پر پاکستان نوبل امن انعام کا حق دار ہے،  قازقستان کے صدر نے جنگ بندی میں کردار پر وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا شکریہ اداکیا ، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ انتونیو گوتریس نے خطے میں امن و استحکام کیلئے پاکستان کی انتھک کوششوں کو سراہا ہے۔

برطانیہ کے وزیراعظم کیئر سٹارمر نے جنگ بندی کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد مذاکرات امن کی طرف ایک اہم قدم ہیں۔

وزارت خارجہ ترکیہ نے کہا کہ ہم اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کی کامیاب تکمیل کے لیے تمام ضروری تعاون جاری رکھیں گے۔

نیوزی لینڈ کے وزیر خارجہ ونسٹن پیٹرز نے بھی پاکستان کی کوششوں کو سراہتے ہوئے اسے ایک مثبت پیش رفت قرار دیا۔

تجزیہ کار پاکستان کی حکمت عملی کو دوہری سفارتکاری قرار دے رہے ہیں جس کے تحت پاکستان نے بیک وقت امریکا اور ایران دونوں کے ساتھ رابطے برقرار رکھے۔ اس کامیابی کے بعد پاکستان ایک غیر جانبدار ثالث کے طور پر ابھرا ہے جو پیچیدہ عالمی تنازعات کو حل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

جیسے ہی مزید مذاکرات کے لیے وفود اسلام آباد پہنچنے کی تیاری کر رہے ہیں، دنیا کی نظریں پاکستان پر مرکوز ہیں۔ پاکستان نے نہ صرف کشیدگی کم کی بلکہ خود کو عالمی سفارتکاری کے ایک اہم مرکز کے طور پر بھی منوایا ہے۔