امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کی ثالثی کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے بات چیت کے بعد اور ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو محفوظ بنانے کی یقین دہانی پر امریکا نے دو ہفتوں کے لیے ایران پر حملے روکنے پر اتفاق کیا۔
یہ ایک غیر معمولی بیان تھا جس نے ظاہر کیا کہ پاکستان کی سول اور عسکری قیادت پر امریکا کو اعتماد حاصل ہے۔
🚨 President Donald J. Trump makes a statement on Iran: pic.twitter.com/9mqTayL0Q3
— The White House (@WhiteHouse) April 7, 2026
ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے بھی پاکستان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی قیادت نے خطے میں جنگ کے خاتمے کے لیے اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایران پر حملے بند کیے جائیں تو ایران بھی اپنی دفاعی کارروائیاں روک دے گا اور دو ہفتوں کے لیے آبنائے ہرمز سے محفوظ گزر ممکن بنایا جائے گا۔
Statement on behalf of the Supreme National Security Council of the Islamic Republic of Iran: pic.twitter.com/cEtBNCLnWT
— Seyed Abbas Araghchi (@araghchi) April 7, 2026
وزیراعظم شہباز شریف نے اعلان کیا کہ ایران اور امریکا نے فوری جنگ بندی پر اتفاق کیا ہے اور انہوں نے دونوں ممالک کے وفود کو 10 اپریل 2026 کو اسلام آباد میں مزید مذاکرات کے لیے مدعو کیا تاکہ تمام تنازعات کا مستقل حل نکالا جا سکے۔
With the greatest humility, I am pleased to announce that the Islamic Republic of Iran and the United States of America, along with their allies, have agreed to an immediate ceasefire everywhere including Lebanon and elsewhere, EFFECTIVE IMMEDIATELY.
— Shehbaz Sharif (@CMShehbaz) April 7, 2026
I warmly welcome the…
ملائیشیا کے وزیراعظم انور ابراہیم نے پاکستان کی سفارتکاری کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا میں امن کے قیام کے لیے اہم ہے۔
I wholeheartedly welcome the latest development in the current US-Iran war, in respect of the ten-point plan as proposed by Iran and positively received by the US.
— Anwar Ibrahim (@anwaribrahim) April 8, 2026
This proposal augurs well for the restoration of peace and stability, not only to the region but also the rest of… pic.twitter.com/Gyy9vtjJPD
آسٹریلیا کے وزیراعظم انتھونی البانیز اور وزیر خارجہ پینی وونگ نے مشترکہ بیان میں پاکستان، ترکیہ اور مصر کی کوششوں کو سراہا۔
جرمن چانسلر فریڈرک مرز نے کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی کا خیر مقدم اور پاکستان کے بطور ثالث کردار کو سراہتے ہیں۔
چین کے سفیر جیانگ زائیدونگ مشرقِ وسطیٰ اور خلیجی خطے میں امن اور سلامتی کے فروغ کے لیے پاکستان کے تعمیری کردارکے معترف
وزارت خارجہ چین نے بیان میں لکھا کہ چین امن کیلئے پاکستان کی فعال ثالثی کی کوششوں کی حمایت کرتا ہے۔
مزید برآں، قطر کی جانب سے بھی وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کےبطور ثالث کامیاب اور مؤثر کردار کو بھرپور انداز میں سراہا گیا ہے
سعودی وزارت خارجہ نے بھی امریکا ایران جنگ بندی میں وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی کوششوں میں سراہا ہے۔
واضح رہے کہ ا یرانی سفیر رضا امیری نے کہا کہ پاکستان کے بطور ثالث کردار کے بعد اس وقت ہم ایک اہم اور حساس مرحلے سے آگے بڑھ چکے ہیں۔
برطانوی سفیر جین میریٹ نے کہا کہ امن کیلئے پاکستان کےمؤثر اور نتیجہ خیز کردار کے ساتھ ساتھ کامیاب ڈپلومیسی پر بھر پور شکریہ ادا کرتےہیں۔
سابق اطالوی وزیراعظم پاؤلو جینٹیلون نے کہا کہ امریکا ایران جنگ بندی میں بطور ثالث کردار پر پاکستان نوبل امن انعام کا حق دار ہے، قازقستان کے صدر نے جنگ بندی میں کردار پر وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا شکریہ اداکیا ، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ انتونیو گوتریس نے خطے میں امن و استحکام کیلئے پاکستان کی انتھک کوششوں کو سراہا ہے۔
برطانیہ کے وزیراعظم کیئر سٹارمر نے جنگ بندی کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد مذاکرات امن کی طرف ایک اہم قدم ہیں۔
I welcome the ceasefire agreement reached overnight, which will bring a moment of relief to the region and the world.
— Keir Starmer (@Keir_Starmer) April 8, 2026
Together with our partners we must do all we can to support and sustain this ceasefire, turn it into a lasting agreement and re-open the Strait of Hormuz.
وزارت خارجہ ترکیہ نے کہا کہ ہم اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کی کامیاب تکمیل کے لیے تمام ضروری تعاون جاری رکھیں گے۔
نیوزی لینڈ کے وزیر خارجہ ونسٹن پیٹرز نے بھی پاکستان کی کوششوں کو سراہتے ہوئے اسے ایک مثبت پیش رفت قرار دیا۔
New Zealand welcomes the announcements by the United States and Iran over the past few hours - as we welcome all efforts to bring an end to this conflict.
— Winston Peters (@NewZealandMFA) April 8, 2026
While this is encouraging news, there remains significant important work to be done in the coming days to secure a lasting…
تجزیہ کار پاکستان کی حکمت عملی کو دوہری سفارتکاری قرار دے رہے ہیں جس کے تحت پاکستان نے بیک وقت امریکا اور ایران دونوں کے ساتھ رابطے برقرار رکھے۔ اس کامیابی کے بعد پاکستان ایک غیر جانبدار ثالث کے طور پر ابھرا ہے جو پیچیدہ عالمی تنازعات کو حل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
جیسے ہی مزید مذاکرات کے لیے وفود اسلام آباد پہنچنے کی تیاری کر رہے ہیں، دنیا کی نظریں پاکستان پر مرکوز ہیں۔ پاکستان نے نہ صرف کشیدگی کم کی بلکہ خود کو عالمی سفارتکاری کے ایک اہم مرکز کے طور پر بھی منوایا ہے۔