ہائر ایجوکیشن کمیشن نے بیرون ملک زیر تعلیم سرکاری وظائف پر جانے والے پی ایچ ڈی سکالرز کیلئے نئی پالیسی مرتب کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے جس میں موجودہ قواعد میں نرمی لانے کی تجویز شامل ہیں۔
حکام کے مطابق زیر غور پالیسی کے تحت میرٹ پر بیرون ملک بھیجے گئے سکالرز اگر مقررہ مدت میں اپنی ڈگری مکمل نہ کر سکیں تو ان پر جرمانہ عائد نہیں کیا جائے گا، اس کے ساتھ ساتھ ایسے طلبہ کو وطن واپسی پر تنگ نہ کرنے کی بھی یقین دہانی کرائی جارہی ہے۔
ایچ ای سی ذرائع کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر پی ایچ ڈی پروگرامز میں ناکامی کی شرح تقریباً 50 فیصد ہے جبکہ پاکستان میں یہ شرح نسبتاً کم یعنی 5 فیصد کے قریب ہے جس کے پیش نظر پالیسی میں توازن پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایم بی بی ایس کے نصاب میں بڑی تبدیلیوں کی منظوری
اسی طرح اسکالرز سے لیے جانے والے حلف نامے اور بانڈ کی شرائط کا بھی جائزہ لیا جارہا ہے جن میں پانچ سالہ لازمی سروس کی شرط شامل ہے۔ مجوزہ تبدیلیوں کے مطابق وہ سکالرز جو ناکامی کے بعد پاکستان واپس آ جائیں گے ان کے خلاف نہ قانونی کارروائی ہوگی اور نہ مالی جرمانہ عائد کیا جائے گا۔
تاہم حکام نے واضح کیا کہ وہ افراد جو ڈگری مکمل نہ کرنے کے باوجود بیرون ملک ہی قیام یا ملازمت اختیار کریں گے ان کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی، ذرائع کے مطابق ایسے سو سے زائد سکالرز پہلے ہی لاکھوں روپے کے واجبات کے نادہندہ ہیں۔
ایچ ای سی کے مطابق نئی پالیسی میں غیر قانونی قیام اور سیاسی پناہ جیسے معاملات کی روک تھام کے لیے بھی اقدامات کیے جائیں گے تاکہ حکومتی وظائف کے نظام شفافیت اور جوابدہی کو یقینی بنایا جا سکے۔