یہ فیصلہ اس وقت کیا گیا جب مختلف اضلاع، بشمول راولپنڈی میں نجی پبلک ٹرانسپورٹ اور مال بردار گاڑیوں کے کرایوں میں 25 سے 37 فیصد اضافے کی تجویز پیش کی تھی۔
بعد ازاں حکومتِ پاکستان کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 80 روپے کمی کا اعلان کیا گیا جس کے بعد صوبائی حکومت نے کرایوں میں اضافے کی تجویز پر نظرِ ثانی کی۔
سرکاری نوٹیفکیشن کے مطابق، ڈیزل سے چلنے والی پبلک ٹرانسپورٹ اے سی اور نان اے سی کے کرایوں میں زیادہ سے زیادہ 25 فیصد اضافہ کیا جا سکتا ہے جبکہ پیٹرول سے چلنے والی گاڑیوں کے کرایوں میں زیادہ سے زیادہ 10 فیصد اضافہ کی اجازت ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب میں مارکیٹیں رات 8 بجے بند، نوٹیفکیشن آگیا
حکام نے ٹرانسپورٹرز کو خبردار کیا ہے کہ مقررہ حد سے زیادہ کرایہ وصول کرنے پر سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔ زیادہ کرایہ دکھانے والے تمام کرایہ نامے فوری طور پر درست کیے جائیں۔
ٹرانسپورٹرز کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ بس اڈوں اور بکنگ کاؤنٹرز پر نئے کرایہ نامے آویزاں کریں اور طلب کیے جانے پر متعلقہ عملے کو دکھائیں۔
اسسٹنٹ کمشنرز، ٹریفک پولیس اور دیگر اداروں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ مختلف اضلاع میں عملدرآمد کی نگرانی کریں۔