یہ فیصلہ ایک مشترکہ اجلاس میں کیا گیا جس کی صدارت ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) ملیحہ ایسر اور آر ٹی اے کے سیکریٹری سید اسد عباس شیرازی نے صدر میں واقع آر ٹی اے دفتر میں کی۔
اجلاس میں مسافر پبلک ٹرانسپورٹ یونین، ڈی کلاس اڈہ مالکان، جنرل بس اسٹینڈ راولپنڈی یونین، لوکل ٹرانسپورٹ یونین راولپنڈی، اور گڈز فارورڈنگ ایسوسی ایشن کے نمائندوں نے شرکت کی۔
حکام نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ نمایاں اضافے کے تناظر میں تجویز کا جائزہ لیا، جس کے مطابق ڈیزل کی قیمت میں تقریباً 54.93 فیصد جبکہ پیٹرول کی قیمت میں 42.73 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
مشاورت کے بعد شرکاء نے اصولی طور پر مختلف کیٹیگریز میں کرایوں میں اضافے پر اتفاق کیا، جسے متعلقہ اتھارٹی کی منظوری سے مشروط رکھا گیا۔
تجویز کے مطابق لوکل نان اے سی ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں 25 فیصد، لوکل اے سی ٹرانسپورٹ میں 30 فیصد، انٹر سٹی اے سی ٹرانسپورٹ میں 37 فیصد، انٹر سٹی نان اے سی ٹرانسپورٹ میں 32 فیصد، جبکہ مال بردار گاڑیوں کے کرایوں میں 35 فیصد اضافہ کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں:وکلاء کو گاڑیوں سے ایڈووکیٹ پلیٹس ہٹانے کا حکم
حکام کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ ایندھن کی قیمتوں، آپریشنل اخراجات، مسافروں کی تعداد اور عوامی سہولت کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔
ٹرانسپورٹرز کا کہنا ہے کہ کرایوں میں یہ اضافہ نہ صرف پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کا نتیجہ ہے بلکہ انجن آئل، اسپیئر پارٹس اور گاڑیوں کی مرمت کے اخراجات میں اضافے کی وجہ سے بھی آپریشنل لاگت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔