ذرائع کے مطابق اس منصوبے کے تحت بھینسوں کے گوبر پر فیس عائد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ہر بھینس پر روزانہ 30 روپے گوبر فیس وصول کرنے کی تجویز زیر غور ہے جبکہ پنجاب بھر کی 168 گوالہ کالونیوں سے اس مد میں باقاعدہ وصولی کا منصوبہ تیار کر لیا گیا ہے۔
یہ اقدام حکومت کے ستھرا پنجاب پروگرام کا حصہ ہے جس کے تحت گوبر سے بائیو گیس اور دیگر توانائی کے ذرائع پیدا کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ گوالہ کالونیوں میں صفائی ستھرائی اور فضلہ جمع کرنے کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے بھی فیس عائد کی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں: حکومت کا ایک بار پھر بسنت منانے کا اعلان
حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ اس منصوبے سے نہ صرف ماحول دوست توانائی حاصل ہوگی بلکہ صفائی کے نظام میں بہتری آئے گی اور سرکاری ریونیو میں بھی اضافہ ہوگا۔
دوسری جانب ذرائع کا دعویٰ ہے کہ گوالہ مالکان نے مجوزہ فیس کی ادائیگی پر آمادگی ظاہر کر دی ہے، تاہم اس حوالے سے حتمی منظوری اور باقاعدہ اعلان ابھی متوقع ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر اس منصوبے پر مؤثر انداز میں عملدرآمد کیا گیا تو یہ پنجاب میں ماحولیاتی آلودگی کم کرنے اور توانائی کے متبادل ذرائع کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔