رمضان المبارک سے قبل وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے ایک جیل میں قید بانی پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی کے لیے مخصوص فورس بنانے کا اعلان کیا تھا جس کا مقصد عمران خان کی رہائی کے لیے کارکنوں کو متحرک کرنا تھا۔
منصوبے کے مطابق پارٹی کے متحرک کارکنان سے حلفیہ بیان اور باقاعدہ طور پر ارکان کی رجسٹریشن کرنے کے بعد منظم تحریک شروع کرنے کا اعلان کیا گیا تھا تاہم اس تجویز کو جلد ہی پارٹی کے اندر سے مزاحمت کا سامنا کرنا پڑ گیا۔
چیئرمین پی ٹی آئی گوہر علی خان نے اس خیال کو غیر آئینی اورغیر قانونی قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ ایسی کسی فورس کی تشکیل عسکریت پسندی کے زمرے میں آ سکتی ہے۔
پارٹی قیادت نے اندرونی مشاورت کے بعد فورس کے تصور کو مکمل طور پر ختم کرنے کا فیصلہ کیا، اب مخصوص فورس کی تشکیل کے بجائے ایک وسیع، جامع سیاسی تحریک کا آغاز کیا جائے گا جس میں پارٹی کا ہر کارکن آزادنہ طور پر شمولیت اختیار کر سکے گا۔
یہ بھی پڑھیں: انسدادِ دہشت گردی عدالت نے علیمہ خان کو بڑا ریلیف دے دیا
ذرائع کے مطابق پارٹی نے قیادت نے واضح طور پر کسی بھی قسم کے تشدد یا عسکریت پسندی کو مسترد کر دیا ہے۔
پارٹی ذرائع کا یہ بھی بتانا ہے کہ احتجاجی تحریک کے آغاز اور نوعیت سے متعلق فیصلے کا اختیار وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کے پاس نہیں ہو گا بلکہ تحریک یا مارچ کے آغاز اور وقت سے متعلق فیصلہ قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی کا صوابدید اختیار ہو گا۔
ذرائع کے مطابق سینئر پی ٹی آئی رہنماؤں نے ماضی کے پرتشدد واقعات، جن میں 9 مئی کی بدامنی اور 2024 کے آخر میں اسلام آباد میں احتجاج کے دوران جھڑپیں شامل ہیں، کو دہرانے سے بچنے کی ضرورت پر بھی زور دیا ہے۔
پارٹی رہنماؤں نے پختہ یقین دہانی کرائی ہے کہ آئندہ کسی بھی تحریک کو سختی سے پُرامن اور آئینی حدود کے اندر رکھا جائے گا۔