محکمہ داخلہ کے مطابق یہ سخت اقدام امن و امان کی موجودہ صورتحال کو برقرار رکھنے کیلئے اٹھایا گیا ہے۔
حالیہ دنوں میں صوبے کے مختلف علاقوں میں ہونے والے پرتشدد واقعات اور شہریوں کی ہلاکتوں کے بعد حکام نے اس فیصلہ کو ضروری قرار دیا۔ دفعہ 144 کے نفاذ کے بعد کسی بھی قسم کے اسلحے کے کھلے مظاہرے یا عوامی اجتماعات کی اجازت نہیں ہوگی۔
خلاف ورزی کرنے والوں کیخلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی، جس میں فوری گرفتاریاں اور جرمانے شامل ہیں۔
محکمہ داخلہ نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ امن و امان برقرار رکھنے میں تعاون کریں اور دفعہ 144 کے نفاذ کے دوران قوانین کی مکمل پاسداری کریں۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ امن و امان کی بحالی کیلئے یہ اقدامات وقتی طور پر نافذ کیے گئے ہیں تاکہ صوبے میں کسی بھی قسم کی پرتشدد سرگرمیوں کو روکا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں:ساہیوال میں مقامی تعطیل کا اعلان
دفعہ 144 کے نفاذ سے صوبے میں امن و امان کی صورتحال بہتر ہو سکتی ہے، تاہم یہ ضروری ہے کہ حکام شہریوں کے ساتھ رابطے میں رہیں اور قانون نافذ کرنے والے ادارے مؤثر حکمت عملی اپنائیں تاکہ غیر ضروری جھڑپوں اور تشویش سے بچا جا سکے۔