سیکیورٹی و تجزیاتی حلقوں کے مطابق یہ مہم افغانستان کے بعض نیٹ ورکس کے ساتھ مل کر چلائی گئی جس کا مقصد پاکستان کو عالمی سطح پر متنازعہ بنانا اور اس کے سفارتی کردار کو نقصان پہنچانا تھا۔
رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس مہم کے دوران جعلی ایرانی شناختوں کا سہارا لیتے ہوئے ایران کے نام پر پاکستان مخالف بیانیہ تشکیل دیا گیا۔ اس مقصد کے لیے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر متعدد جعلی اکاؤنٹس استعمال کیے گئے جن کے ذریعے نفرت انگیز مواد پھیلایا گیا۔
تحقیقات کے مطابق ڈس انفارمیشن مہم کا آغاز نام نہاد پلیٹ فارمز جیسے “INN Iran News” اور “Iran TV” سے کیا گیا، جبکہ “Times of Iran News” کو مرکزی پروپیگنڈا ہب قرار دیا گیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس مہم میں “Initiator، Proliferator اور Amplifier” ماڈل کے تحت مرحلہ وار حکمت عملی اپنائی گئی، جہاں ابتدائی بیانیہ بھارت سے، اس کا پھیلاؤ افغانستان سے جبکہ عالمی سطح پر اس کی تشہیر مختلف نیٹ ورکس کے ذریعے کی گئی۔
رپورٹس میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ پاکستان پر امریکہ کے لیے تیل ترسیل جیسے بے بنیاد الزامات عائد کر کے ایک منفی تاثر قائم کرنے کی کوشش کی گئی تاکہ عالمی سطح پر پاکستان کے خلاف رائے عامہ ہموار کی جا سکے۔
.png)
.png)
تجزیہ کاروں کے مطابق اس مہم کا مقصد نہ صرف پاکستان کو ایران مخالف دکھانا تھا بلکہ عالمِ اسلام میں بداعتمادی اور تقسیم پیدا کرنا بھی اس کا حصہ تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ ڈس انفارمیشن مہم مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کو بڑھانے اور ممکنہ تنازعات کو ہوا دینے کی کوشش بھی ہو سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کینیڈا میں کم از کم اجرت میں اضافہ
ماہرین نے مزید کہا کہ اس نوعیت کی مربوط انفارمیشن وارفیئر خطے کے امن، سفارتکاری اور استحکام کے لیے براہ راست خطرہ ہے اور اس کے اثرات عالمی سطح پر بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اس مبینہ سازش کو بے نقاب کر کے پاکستان نے ایک بار پھر اپنے ذمہ دار عالمی کردار کو اجاگر کیا ہے جبکہ متعلقہ ادارے اس قسم کی سرگرمیوں کے خلاف مکمل طور پر چوکنا ہیں۔
ماہرین نے عوام پر زور دیا ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر پھیلنے والی غیر مصدقہ معلومات سے محتاط رہیں اور کسی بھی پروپیگنڈا مہم کا حصہ بننے سے گریز کریں۔