تفصیلات کے مطابق میٹرو بس سروس اب روزانہ رات 9 بجے معطل کر دی جائے گی، جبکہ تمام اسٹیشنز رات 9 بج کر 40 منٹ کے بعد مکمل طور پر بند کر دیے جائیں گے، آخری بس رات 9 بجے راولپنڈی سے اسلام آباد اور اسلام آباد سے راولپنڈی کی جانب روانہ ہوگی، جس کے بعد کسی بھی قسم کی سروس دستیاب نہیں ہوگی۔ اس فیصلے کا مقصد توانائی کے استعمال کو کم کرنا اور موجودہ عالمی صورتحال کے پیش نظر ایندھن کی بچت کو یقینی بنانا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مٹی کے تیل کی قیمت میں ایک بار پھر اضافہ
حکام کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں پٹرولیم مصنوعات کی شدید قلت اور قیمتوں میں غیر معمولی اضافے کے باعث حکومت نے یہ اقدام اٹھایا ہے تاکہ ملک میں توانائی کے وسائل کو بہتر انداز میں استعمال کیا جا سکے۔ اگرچہ پاکستان میں فی الحال صورتحال کو کنٹرول میں بتایا جا رہا ہے، تاہم مستقبل کے ممکنہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے پیشگی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق میٹرو بس سروس کے اوقات کار میں کمی سے روزانہ سفر کرنے والے ہزاروں شہری متاثر ہوں گے، خاص طور پر وہ افراد جو دفاتر یا دیگر مصروفیات کے باعث رات گئے سفر کرتے ہیں۔ شہریوں نے اس فیصلے پر ملا جلا ردعمل دیا ہے، کچھ افراد نے اسے وقتی ضرورت قرار دیا ہے جبکہ دیگر نے اسے عوامی مشکلات میں اضافے کا سبب بتایا ہے۔
حکومت کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ عارضی بنیادوں پر کیا گیا ہے اور صورتحال بہتر ہونے پر اس میں نظرثانی کی جا سکتی ہے۔ حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ توانائی کے بچاؤ میں حکومت کا ساتھ دیں اور غیر ضروری سفر سے گریز کریں۔
مزید برآں، حکومت نے یقین دہانی کرائی ہے کہ ملک میں پٹرولیم مصنوعات کی فراہمی کو یقینی بنایا جا رہا ہے اور کسی بھی قسم کی قلت سے نمٹنے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ حکومتی ترجمان کے مطابق قوم کے اتحاد اور اجتماعی کوششوں سے اس چیلنج پر قابو پایا جا سکتا ہے اور پاکستان اس بحران سے سرخرو ہو کر نکلے گا۔