ذرائع کے مطابق خطے میں کشیدگی کے باعث سپلائی متاثر ہونے سے سوئی ناردرن گیس کمپنی کو بھی شدید شارٹ فالٹ کا سامنا ہے، سوئی ناردرن گیس کمپنی 1700سے 1800 ملین کیوبک فٹ ایل این جی درآمد کرتی ہے، ایل این جی کی ترسیل متاثر ہونے کے باعث سوئی ناردرن کا گیس شارٹ فال 700 ملین کیوبک فٹ سے تجاوز کر گیا ہے۔
ایس این جی پی ایل ذرائع کا بتانا ہے کہ ناشتے، دوپہر اور رات کے اوقات میں گیس بلا تعطل فراہم کرنے کا پلان ہے، صرف کھانے کے اوقات میں فل پریشر گیس فراہم کی جائے گی جبکہ دیگر اوقات میں شہریوں کو گیس بندش اور کم پریشر کا سامنا ہے۔
ذرائع کے مطابق صنعتی پہیہ رواں رکھنے کے لیے گھریلو صارفین کو صرف کھانے کے اوقات میں گیس فراہمی کی پالیسی پر عملدرآمد کیا جارہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ہفتے میں 3 چھٹیاں اور 4 دن کام، نوٹیفکیشن جاری
ذرائع کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ خطے کی موجودہ صورتحال میں درآمد کم ہو کر 1000 سے 1100 ملین کیوبک فٹ تک محدود ہو کر رہ گئی ہے جبکہ آبنائے ہرمز کی موجودہ صورتحال کی وجہ سے آئندہ ہفتے ایل این جی درآمد میں مزید کمی کا بھی امکان ہے۔
این ایس جی پی ایل ذرائع کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں گیس لوڈشیڈنگ کا دورانیہ بڑھ سکتا ہے جبکہ شارٹ فال کے پیش نظر سوئی ناردرن نے آر ایل این جی کے نئے کنکشنز بھی محدود کردیے ہیں۔