تفصیلات کے مطابق کراچی میں طوفانی بارش سے ٹریفک اور بجلی کا نظام درہم برہم ہوگیا، نارتھ ناظم آباد، نارتھ کراچی، سرجانی، ایف بی ایریا، صدر، کورنگی اور کلفٹن، ایئرپورٹ سمیت مختلف علاقوں میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش ہوئی، بارش شروع ہوتے ہی 800 فیڈر ٹرپ کر گئے، ڈی ایچ اے فیز ٹو ایکسٹینشن، اختر کالونی، کشمیر کالونی ،کورنگی کراسنگ ، ماڈل کالونی سمیت شہر کا بیشتر حصہ تاریکی میں ڈوب گیا، ریسکیو 1122 کے مطابق بلدیہ مواچھ گوٹھ کے قریب گھر کی چھت اور دیوار گرنے سے 13 افراد جاں بحق اور تین زخمی ہوگئے۔
کورنگی ساڑھے 3 نمبرکے قریب گھرکی چھت گرنے سے خاتون جاں بحق جبکہ 3 افراد زخمی ہوگئے۔ لانڈھی یارمحمد گوٹھ میں آسمانی بجلی گرنے سے ایک، کورنگی نمبر 5 میں درخت گرنے سے ایک جاں بحق، قائدآباد میں مکان کی چھت گرنے سے میاں بیوی جاں بحق ہوگئے، ملیر 4 نمبرمیں بھینس کے باڑے کی چھت گرنے سے 3 افراد، قائدآباد مجید کالونی سیکٹر 2 میں گھر کی دیوار گرنے سے 3زخمی ہوئے ۔بلدیہ میں بارش کے دوران پانی جمع ہونے سے گاڑی کو حادثہ پیش آیا جس سے 2 افراد زخمی ہوئے ،محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ آج بھی کراچی،حیدرآباد، ٹھٹھہ اور جامشورو میں بارش، ژالہ باری کا امکان برقرارہے ۔ کئی علاقوں میں درخت گر گئے ،متعدد گھروں کی ٹین کی چھتیں اڑ گئیں، سائن بورڈز بھی گر گئے۔
یہ بھی پڑھیں: عید پر موسم کیسا رہے گا؟ محکمہ موسمیات نے پیشگوئی کردی
تیز بارش اور آندھی کے باعث سول ایوی ایشن اتھارٹی نے ہلکے طیاروں کو پرواز سے روک دیا جبکہ لاہور سے آنے والی پرواز کو لینڈنگ کی اجازت نہیں دی گئی۔ تیز بارش اور شدید آندھی کے باعث شہر کے مختلف علاقوں میں درجہ حرارت 17 ڈگری تک ریکارڈ کیا گیا ۔ ایئرپورٹ کے قریب 64 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلتی رہیں۔ شارع فیصل پر ہوا کی رفتار 90 کلو میٹر فی گھنٹہ تک ریکارڈ کی گئی۔
ترجمان ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ کلفٹن ڈرائیونگ لائسنس برانچ کے قریب درخت گرنے کے باعث 2 افراد نیچے پھنس گئے، بارشوں کے پیش نظر وزیر بلدیات ناصر حسین شاہ نے کراچی سمیت صوبے بھر میں الرٹ جاری کرتے ہوئے عملے کی عید کی چھٹیاں منسوخ کر دی ہیں، شہداد پور کے قریب گاؤں سلطان کپری میں کھیتوں میں کام کرنے والے مزدوروں پر آسمانی بجلی گر گئی، جس کے نتیجے میں 18 سالہ پریم چند کولہی موقع پر ہی ہلاک اور اس کا باپ مالجی کولہی شدید زخمی ہوگیا۔
دریں اثنا لاہور سمیت مختلف شہروں میں بارش سے موسم خوشگوار ہو گیا تاہم نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہونے سے لوگوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ، لاہور میں بارش کے باعث لیسکو کا ترسیلی نظام بھی متاثر ہوا اور کمپنی کے متعدد فیڈرز پر ٹرپنگ کے نتیجے میں مختلف علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل رہی۔
محکمہ موسمیات نے پیشگوئی کی ہے کہ بارشوں کا یہ سلسلہ کل 20 مارچ تک جاری رہ سکتا ہے ، لاہور کے علاقے کینال روڈ، گڑھی شاہو، ڈیوس روڈ، مال روڈ، سول سیکرٹریٹ، ایم اے او کالج، ساندہ روڈ، چوبرجی، جیل روڈ، فیروزپور روڈ اور دیگر علاقوں میں بادل برسے ۔اس کے علاوہ ملک بھر کے مختلف حصوں میں کہیں ہلکی اور کہیں تیز بارش کا سلسلہ جاری رہا۔
صوبہ سندھ ،بلوچستان اورخیبرپختونخوا کے متعدد علاقوں میں رم جھم جاری رہی ۔آزاد کشمیر کے بھمبر، کوٹلی اور اٹھ مقام سمیت زیریں و بالائی علاقوں میں بھی بارش کا سلسلہ جاری رہا۔
ادھر محکمہ موسمیات کے ترجمان کے مطابق موجودہ ایران جنگ کی صورتِ حال میں پاکستان کسی بھی قسم کے ماحولیاتی یا تابکاری خطرے سے محفوظ ہے جبکہ ایران میں جاری بمباری کے باوجود کوئی منفی اثرات سامنے نہیں آئے ۔ اگر خدانخواستہ کوئی تابکاری واقعہ پیش آتا ہے تو اس کے ممکنہ اثرات ترکمانستان کی جانب جا سکتے ہیں۔