اسٹیبلشمنٹ ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق وزیر اعلیٰ نے دو ماہ یا حالات بہتر ہونے تک سرکاری دفاتر میں ہر جمعہ کو 100 فیصد گھر سے کام کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ یہ فیصلہ اس سے پہلے کیے گئے جزوی ورک فرام ہوم اقدامات کے بعد کیا گیا ہے۔
حکومت نے اسکولوں کے لیے مختصر بہار کی تعطیلات کا بھی اعلان کیا ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق سرکاری اور نجی تعلیمی ادارے (یونیورسٹیز اور بورڈ امتحانات کے علاوہ) 24 مارچ سے تعطیلات شروع کریں گے۔ تاہم اس کا عملی اثر محدود ہوگا کیونکہ جمعہ سے اتوار پہلے ہی عام تعطیلات میں شامل ہوتے ہیں۔
یہ فیصلے فیول کنزرویشن اینڈ ریسپانسبل گورننس انیشی ایٹو نامی پیکج کا حصہ ہیں جسے 9 مارچ کو صوبائی کابینہ نے منظور کیا تھا۔
اس منصوبے کے تحت صوبے میں سرکاری گاڑیوں کے ایندھن کے کوٹے میں 25 فیصد کمی کی گئی ہے اور ٹرانسپورٹ کے استعمال کو کم کرنے کے لیے چار روزہ تعلیمی ہفتہ متعارف کرایا گیا ہے۔ اس سے قبل محکموں کو 50 فیصد ورک فرام ہوم پر کام کرنے کی ہدایت دی گئی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان نے رابطہ کیا توسستا تیل دینگے: روس
مالی سطح پر حکومت نے رواں مالی سال کی آخری سہ ماہی کے لیے کفایت شعاری کے اقدامات بھی متعارف کروائے ہیں۔
محکمہ خزانہ نے اپریل سے جون کے دوران غیر ملازمتی اخراجات میں 20 فیصد کمی کی ہدایت جاری کی ہے جس کی وجہ مالی دباؤ اور عالمی سطح پر تیل کی بڑھتی قیمتیں ہیں۔ اس کے علاوہ 30 جون 2026 تک نئے پائیدار سامان کی خریداری پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
ایک اور ایندھن بچانے کے اقدام کے تحت صوبائی اداروں میں 60 فیصد سرکاری گاڑیوں کے استعمال کو اگلے دو ماہ کے لیے معطل کر دیا گیا ہے جو پہلے سے کم کیے گئے ایندھن کوٹے کے علاوہ ہے۔
ایندھن کی بچت کے اقدامات صرف انتظامیہ تک محدود نہیں رہے بلکہ پشاور ہائی کورٹ نے بھی اپنے مرکزی دفتر اور ماتحت عدالتوں میں ایندھن کے استعمال میں کمی کے لیے ہدایات جاری کی ہیں۔